ایک شامی لڑکا چھوٹے بچے کو اٹھائے اس جگہ سے گزر رہا ہے جسے مقامی کارکنوں کے مطابق روسی ہوائی جہازوں نے نشانہ بنایا ہے۔ [10 جنوری 2016ء رائیٹرز]
شام تنازعے کے حل میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے: پوپ فرانسس
کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے امن مذاکرات کو بحال کرنے اور اس تنازعے سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے شہریوں کو فوری طور پر مدد فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
پوپ نے اتوار کے روز ویٹیکن سٹی میں ہفتہ وار دعا کے موقع پر کہا "میں تمام بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تمام فریقوں کو مذاکراتی ٹیبل پر واپس لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔"
پوپ فرانسس نے دعا سے قبل ہجوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اس ظلم کے شکار ملک میں مفاہمت اور امن کے مستقبل کو یقینی بنانے کا واحد راستہ صرف سیاسی حل ہی ہے۔"
پوپ نے تنازعے اور بڑھتی ہوئی جنگ کے نتیجے میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگنے والے افراد کی صورتحال کے حوالے سے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا "مجھے امید ہے کہ ان جنگ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے افراد کی جانیں اور وقار کو بچانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔"
بدھ کے روز جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات دمشق کے اتحادی روسی افواج کی جانب سے باغیوں کی حدود میں پیشقدمی کے سبب ملتوی کردئیے گئے تھے۔ ان مذاکرات کو 25 فروری تک ملتوی کردیا گیا ہے۔