Your browser doesn’t support HTML5 video

سعودی عرب کے سرحد پار کوئی عزائم نہیں: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ "ان کا ملک سرحد پار کسی قسم کے عزائم نہیں رکھتا۔ خطے کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا دہشت گردی کا سامنا اور ترقی کا ہدف حاصل کرنا ہے۔"

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز میونخ میں امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ خطے کا مستقبل انتہائی روشن ہے، تاہم اس کے لئے متذکرہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

عادل الجبیر نے بتایا کہ سعودی عرب نے یمن میں مداخلت وہاں کی آئینی حکومت کے خلاف ایران اور حزب اللہ نواز ملیشیاؤں کے حملوں کے باعث شروع کی۔ یہ ملیشیا گروپ انتہائی جدید اسلحہ بشمول بیلسٹک میزائیلوں سے لیس تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ "سعودی عرب کی یمن میں مداخلت وہاں کی آئینی حکومت کی درخواست پر کی گئی تاکہ اسے گرنے سے بچایا جا سکے۔"

سعودی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ یمن کی آئینی حکومت اس وقت ملک کے 75 فیصد علاقے پر قابض ہے، اسی وجہ سے ہم متاثرہ آبادی کے بڑے حصے کو امدادی سامان پہنچانے کے قابل ہوئے ہیں۔

شام کے حوالے سے سعودی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہمارا فی الوقت وہاں ہدف بشار الاسد کو شامی ایوان اقتدار سے باہر نکالنا ہے۔ "ہم یہ مقصد حاصل کر لیں گے، تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد تنظیم 'داعش' کی بنیاد کسی دین اور اخلاقی نظریئے پر نہیں۔ یہ حقیقت کے برخلاف اسلام کا نام لیکر بنائی گئی ایک انتہا پسند تنظیم ہے۔

عادل الجبیر کے بقول شامی اقتدار سے بشار الاسد کی بیدخلی کے ساتھ ہی وہاں پر داعش کے لئے سازگار ماحول ختم ہو جائے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں