Your browser doesn’t support HTML5 video
ایران: فرسودہ فضائی دفاعی نظام کی تجدید کے لیے 8 ارب ڈالر
اقتصادی پابندیوں کے سبب فضائیہ حربی آلات کی شدید قلت سے دوچار
#روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ #ایران کو سخوئی 30 SU-ماڈل کے جدید جنگی طیارے فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیر دفاع کے #ماسکو کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روسی حکومت کا کہنا ہے کہ (متنازع) دفاعی میزائل سسٹم S-300 جلد ہی #تہران حکومت کے حوالے کردیا جائے گا۔
ایران فضائیہ اس وقت فرسودگی سے دوچار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کئی دہائیوں سے جاری وہ اقتصادی پابندیاں ہیں جن کے تحت تہران حکومت کو اسلحے کی فروخت کی اجازت نہیں تھی۔
روسی معاہدوں سے پہلے بھی ایرانی فضائیہ بڑی حد تک پرانے جنگی طیاروں کے مقامی طور پر ترمیم شدہ ورژن پر انحصار کررہی تھی۔ ان میں روسی ساختہ "مگ" طیارے اور 70ء کی دہائی کے امریکی ساختہ "ایف 14 ٹوم کیٹ" طیارے شامل ہیں۔
تاہم اب پابندیوں کے اٹھائے جانے سے ایران میں ہتھیاروں کے شعبے کو ازسرنو حیات بخشنے کا موقع ملے گا اور اگر روس کا فضائی دفاع کا نظام S-300 تہران حکومت کے حوالے ہوجاتا ہے تو اس سے ایران کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
توقع ہے کہ روس کے ساتھ حالیہ معاہدوں سے مشترکہ مصنوعات بالخصوص فاضل پرزہ جات اور دیکھ بھال کے نظام کے شعبے میں مدد ملے گی۔
ایران کے اسلحہ ترقی پروگرام میں کئی فعال اقدامات شامل ہیں۔ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد کریملن نے اعلان کیا کہ روس تہران کو SU-30 ماڈل کے سخوئی جنگی طیارے فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بات بھی معلوم ہے کہ ایران اور روس، #شام اور #عراق کے تناظر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنی کوششوں میں تعاون کررہے ہیں۔ عراق اور شام میں فوجی کارروائیوں میں کوآرڈینیشن کے لیے بغداد اور دمشق میں آپریشنز روم میں روسی افسران کے ساتھ ایرانی افسران میں شریک ہوتے ہیں۔
تہران کا جدید دفاعی نظام حاصل کرنا جس کے بارے میں ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں ایران کے حوالے کردیا جائے گا، ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا۔
دوسری جانب ایران کو جدید سوخوی طیاروں کی فروخت سے ایران کے حربی سازوسامان کی کوالٹی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔