turkey PM
یورپی یونین بغیر ویزا سفر کا معاہدہ پورا کرے : ترکی
ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ترکوں کے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر سے متعلق معاہدے کی پاسداری کرے ۔دوسری صورت میں ترکی اس معاہدے کے تحت غیر ملکی تارکین وطن کو واپس لینے سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرے گا۔
داؤد اوغلو اسٹراسبرگ کے لیے روانہ ہونے سے قبل انقرہ کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ ایک باہمی معاہدہ ہے۔اگر یورپی یونین اس پر عمل درآمد کے لیے درکار ضروری اقدامات نہیں کرسکتی ہے تو پھر وہ ترکی سے بھی انہی اقدامات کی توقع کیسے رکھ سکتی ہے''۔
انھوں نے کہا کہ :''میرا یہ یقین ہے اور ان شاء اللہ ہمیں جون میں ویزے سے استثنیٰ حاصل ہوجائے گا۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کسی کو یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ ترکی اپنے حصے کی ذمے داریوں کا پابند رہے گا''۔
احمد داؤد اوغلو نے واضح کیا کہ ترکی وہی کرے گا ،جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اور جن امور کے اس کے ساتھ وعدے کیے گئے ہیں،وہ ان میں سے کسی میں کوئی رعایت نہیں دے گا۔
ترکی اور یورپی یونین کے درمیان شامی مہاجرین کی آبادکاری سے متعلق معاہدہ 18 مارچ کو طے پایا تھا۔اس کے تحت ترکی کی علاقائی حدود سے تنظیم کے رکن ممالک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے شامیوں اور دوسرے افراد کو ترکی میں واپس سے بھیجا جائے گا۔اس کے بدلے میں ترک شہریوں کو جون 2016ء سے یورپی ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہوگی۔
تاہم ترکوں کے یورپی یونین کے بعض رکن ممالک میں بغیر ویزا داخلے کے امکانات کم نظر آتے ہیں کیونکہ ان ممالک کے لیڈروں کو حزب اختلاف اور شہریوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔وہ ان پر ترکی کے مطالبات کے آگے جھکنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کی جانب سے ترقی کو 2018کے اختتام تک ستائیس لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کے لیے چھے ارب ڈالرز یورو کی قسط وار امداد دی جائے گی۔
ترکی ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔اس کے علاقے سے ہر سال ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن سرحد عبور کرکے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔یورپی یونین یہ چاہتی ہے کہ ترکی ان ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑے جانے کی صورت میں واپس لے۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترکی نے اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا تو پھر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا لیکن ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ''ہم بوجھ کو نہیں اٹھائیں گے بلکہ اس بوجھ کو شیئر کریں گے''۔