اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو [دائیں] اور گیڈور لائیبر مین [بائیں]۔ [فائل فوٹو]
انتہا پسند آوی گیڈور لائبرمین اسرائیلی وزیردفاع مقرر
اسرائیلی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی
اسرائیل کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی سامنے آئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ’’اسرئیل بیتنا‘‘ نامی شدت پسند مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ آوی گیڈور لائبر مین کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں جس کے بعد لائبرمین کو آئندہ ہفتے وزارت دفاع کا قلم دان سونپا جائے گا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینیوں اور عربوں سے نفرت کرنے والے آوی گیڈور لائبرمین اور وزیراعظم نیتن یاھو کے درمیان کچھ عرصے سے اختلافات کی خبریں آ رہی تھیں تاہم حال ہی میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔
تازہ اطلاعات یہ آئی ہیں کہ لائبرمین کی جماعت حکومت میں شامل ہونے کو تیار ہوگئی ہے اور پارٹی سربراہ کو حکومت میں وزارت دفاع کا قلم دان سونپا جا رہا ہے۔
ماضی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ قوانین کی منظوری، فلسطینی مزاحمتی کارکنوں کو پھانسی دینے کے لیے قانون سازی کی کوششوں اور مسئلہ فلسطین کے دور ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر لائبرمین اوران کی جماعت پیش پیش رہی ہے۔ لائبرمین کی جماعت کی حکومت میں شمولیت کے بعد حکومتی حامی ارکان کی تعداد 67 ہوجائے گی اور یوں اسرائیلی کابینہ زیادہ موثر طریقے سے فلسطینیوں کے خلاف قانون سازی کرے گی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آوی گیڈور لائبرمین جیسے امن دشمن یہودی لیڈر کو وزارت دفاع جیسے حساس عہدے پر بٹھانے سے بنجمن نیتن یاھو کی بدنیتی کھل کرسامنے آگئی ہے۔ اس اقدام سے یہ آشکار ہوگیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کے قیام کے سلسلے میں عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات میں تعاون میں سنجیدہ نہیں ہے۔
وزارت دفاع کا قلم دان سنھبالنے والے لائبرمین اپنے متنازع اور سخت گیر بیانات کی وجہ سے صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی متنازع رہے ہیں۔ انہوں نے مصر کے اسوان ڈیم پر بمباری کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کا دورہ مصر منسوخ ہوگیا۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسرائیل نواز شخصیت کو فلسطینی صدر بنانے، غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضے اور حماس کو کچلنے کا بھی کئی بار مطالبہ کیا۔