امریکی صحافی گلین بیک اور سعودی شہری نوجوان عبدالرحمان الحربی۔

امریکا: سعودی نوجوان دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمہ میں بری

جھوٹا دعویٰ کرنے والے صحافی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے طویل لے دے کے بعد سنہ 2013ء سے چل رہے ایک مقدمہ میں سعودی شہری کو دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے الزام سے بری کردیا ہے۔ساتھ ہی سعودی نوجوان کو اس کیس میں جعلی طور الجھانے کے الزام میں ایک مقامی صحافی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ریاست بوسٹن میں قائم وفاقی عدالت کی خاتون جج پیٹی ساریس نے منگل کے روز جاری کردہ 61 صفحات کو محیط فیصلے میں قرار دیا کہ 15 اپریل سنہ 2013ء کو امریکا میں ہونے والے ایک بم دھماکے سے سعودی نوجوان عبدالرحمان الحربی کا کوئی تعلق نہیں۔ الحربی پر ان دھماکوں کے لیے فنڈز مہیا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔

خیال رہے کہ 15 اپریل سنہ2013ء کو ہونے والے دھماکوں میں تین فراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ سنہ 2015ء میں امریکا کی ایک عدالت نے ان دھماکوں میں دو چیچن باشندوں تیمولنک اور جوہر سارنیف کو قصور وار قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔

امریکا کی وفاقی عدالت نے The Blaze ریڈیو سے وابستہ صحافی گلین بیک کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ میں اس خفیہ ذریعے کو سامنے لائے جس کی بنیاد پر اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2013ء کے دھماکوں میں سعودی نوجوان الحربی نے فنڈز فراہم کئے تھے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ صحافی کو سعودی نوجوان کے خلاف عائد الزامات کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے کے لیے یہ بتانا ہوگا کہ آیا اس نے اپنی ریڈیو رپورٹ میں کس ذریعے سے یہ کہا تھا کہ عبدالرحمان الحربی نے دھماکوں کے لیے فنڈز مہیا کیے تھے۔

امریکی صحافی گلین بیک نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ پندرہ اپریل سنہ دو ہزار تیرہ ہو امریکا میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک کارروائی میں سعودی نوجوان بھی ملوث ہے۔ بعد ازاں امریکی داخلی سلامتی کی خاتون وزیر گینٹ نابولیٹانو نے کانگریس کے سامنے ایک بیان میں گلین بیک کو اس بیان سے بری قرار دیا تھا۔

امریکی خاتون جج ساریس کا کہنا ہے کہ 23 سالہ سعودی نوجوان داخلی سلامتی کی وزارت کے ان دو عہدیداروں کے نام جانتا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر The Blaze ریڈیو کےصحافی کو یہ بتایا تھا کہ دھماکوں میں الحربی بھی ملوث ہے مگر صحافی نے اپنی معلومات کا ذریعہ ظاہر نہیں کیا تھا۔

خیال رہے کہ 23 سالہ عبدالرحمان الحربی ان دنوں امریکی ریاست ماسی چیوسٹس کے رویر شہر میں مقیم ہے۔ امریکا کی دوسری ریاستوں کے برعکس اس ریاست کے قانون میں صحافی اپنی خبری معلومات کے ذرائع کو سامنے لانے کے پابند ہوتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں