زلزال إيطاليا

اٹلی میں تباہ کن زلزلہ ،120 افراد ہلاک ،سیکڑوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی کے وسطی علاقے میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ایک سو بیس افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔زلزلہ رات کے وقت آیا تھا اور مکانوں کی چھتیں سوئے ہوئے شہریوں پر آگری ہیں جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6 تھی اور یہ مقامی وقت کے مطابق بدھ کو علی الصباح تین بج کر چھتیس منٹ (0136 جی ایم ٹی ) پر آیا تھا۔اس کے جھٹکے روم سمیت اٹلی کے تمام وسطی علاقوں میں محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلے سے سب سے زیادہ ریٹی کے نزدیک واقع دو قصبے اماٹرائس اور آکامولی متاثر ہوئے ہیں۔یہ دونوں قصبے روم سے شمال مشرق میں قریباً ایک سو کلومیٹر دور واقع ہیں۔ان کے علاوہ مزید مشرق میں واقع قصبہ پیکارا ڈیل ٹرانٹو بھی زلزلے سے شدید متاثر ہوا ہے۔

اٹلی کی سول پروٹیکشن ایجنسی نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر ایک سو سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے سیکڑوں افراد زخمی ہیں اور ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں اور ان کے لیے عارضی قیام گاہوں کی ضرورت ہوگی۔

اماٹرائس کا وسطی حصہ زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔پوری پوری عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور ان کا ملبہ شاہراہوں اور گلیوں پر ادھر ادھر بکھرا پڑا تھا۔زلزلے کے بعد 39 ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ان میں سے بعض کی شدت ریختر اسکیل پر 5.1 تھی۔

زلزلے کے فوری بعد پادری ،امدادی کارکنان اور شہری تحفظ کے ادارے کے ورکروں نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی تھیں اور وہ ملبے تلے افراد کو نکال رہے تھے۔شوولز اور بلڈوزروں کی مدد سے تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹا رہے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں