(FILES) This combo file pictures made on April 10, 2016 shows an undated file picture released on November 24, 2015 by Belgian federal police of Mohamed Abrini (L) and a screengrab of the airport CCTV camera showing a suspect of this morning's attacks at Brussels Airport, in Zaventem, pushing a trolly with suitcases. Paris attacks suspect Mohamed Abrini confessed on April 10, 2016 to being "the man in the hat" caught on video with suicide bombers at Brussels airport last month, images that had sparked a massive manhunt. Mohamed Abrini, a key suspect in the attacks in Paris and Brussels, was handed on January 30, 2017 for a day to the French authorities, announced the Belgian federal prosecutor's office, where he is currently detained.

برسلز میں بم حملے میں ملوّث ابرینی پر پیرس حملوں کی فردِ جرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے ہوائی اڈے پر بم حملے کے شبے میں گرفتار محمد ابرینی پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں نومبر 2015ء میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔

ابرینی بیلجیئم میں زیر حراست ہے اور بیلجیئن حکام نے سوموار کے روز ہی اس کو فرانس کے حوالے کیا تھا تا کہ اس پر بم دھماکوں میں ایک سو تیس افراد کی ہلاکت کے واقعات میں ملوث ہونے پر فرد جرم عاید کی جاسکے۔

ابرینی کو اپریل 2016ء میں برسلز میں 22 مارچ کو بم حملوں اور پیرس میں نومبر 2015ء میں ہلاکتوں میں ملوّث ہونے کے شُبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں شہروں میں داعش نے دہشت گردی کے حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

بیلجیئن تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن پر خود کش بم حملے کرنے والوں اور پیرس میں حملے کرنے والوں کا ایک ہی سیل سے تعلق تھا۔برسلز میں بم دھماکوں میں بتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پیرس میں حملوں کا مرکزی مشتبہ کردار صلاح عبدالسلام تھا۔وہ بیلجیئن نژاد فرانسیسی شہری ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا ہے کہ وہی پیرس میں حملے کرنے والے جنگجوؤں کی ٹیم میں سے زندہ بچا تھا اور باقی حملہ آوروں نے خود کو مختلف مقامات پر دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں