ایران کے دارالحکومت تہران میں پکڑی گئی شراب کی بوتلیں ۔ فائل تصویر

امریکی شہری میاں بیوی پر تہران میں شراب و کباب کا اہتمام کرنے پر فرد جُرم

ایک ایرانی جوڑے کو افراد میں بدکاری پھیلانے کے جُرم میں سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں جیل میں قید ایک ایرانی نژاد امریکی شہری اور اس کی بیوی پر شراب وکباب کی تقریبات منعقد کرنے کے الزام میں فرد جُرم عاید کردی گئی ہے۔ایک عدالت نے ایک اور ایرانی جوڑے کو قحبہ خانہ چلانے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی ہے۔

ایرانی نژاد امریکی شہری اور اس کی بیوی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تہران میں ایک آرٹ گیلری چلاتے تھے جہاں نمایاں شخصیات اور غیرملکی سفارت کاروں کے لیے مے نوشی کی تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔انھیں گذشتہ سال موسم گرما میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تہران کے پراسیکیوٹر عباس جعفری دولت آبادی نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس مقدمے کا تعلق ایک عورت اور ایک مرد سے ہے۔وہ لوگوں کو شراب مہیا کیا کرتے تھے،مخلوط تقریبات منعقد کرتے تھے اور ان کے ذریعے برائی کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔انھوں نے بتایا ہے کہ تہران کے شمال میں واقع ان کے گھر کے تہ خانے سے چار ہزار لٹر شراب برآمد ہوئی تھی۔

اس جوڑے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کا تعلق زرتشت مذہب سے ہے۔ایران میں اس مذہب کے پیروکاروں کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے شراب رکھنے کی اجازت ہے لیکن ان پر مسلمانوں کو شراب مہیا کرنے پر پابندی عاید ہے۔

دولت آبادی نے ایک اور جوڑے کے الگ کیس کی تفصیل بتائی ہے۔ ان کے بہ قول وہ تہران میں ایک قحبہ خانہ چلا رہا تھا اور افراد کو بدکاری اور برائیوں کی جانب راغب کررہا تھا۔انھیں ’’فساد فی الارض‘‘ کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں دُہری شہریت کے حامل دسیوں افراد کو حالیہ مہینوں کے دوران میں جاسوسی اور دوسرے الزامات کے تحت قصور وار قرار دے کر جیل کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔جنوری میں تہران کے چیف پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ شہر کی جیلوں میں اس وقت ستر افراد جاسوسی کے جرم میں قید ہیں اور وہ مختلف مدت کی قید کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔ان میں زیادہ تر کے پاس کسی یورپی ملک یا امریکا کے پاسپورٹ ہیں۔

اکتوبر میں ایرانی امریکی کاروباری کنسلٹینٹ سیماک نمازی اور ان کے 80 سالہ والد باقر کو امریکی حکومت کے ساتھ تعاون اور جاسوسی کے جرم میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔امریکا ایران سے ان دونوں باپ بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں