تیونس

ایران نے من گھڑت بیان تیونس کے صدر سے منسوب کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں ایوانِ صدارت نے اُس بیان کی سختی سے تردید کر دی ہے جو ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے تیونس کے صدر الباجی قاید السبسی سے منسوب کیا اور اسے ایران کی دیگر نیوز ایجنسیوں اور ویب سائٹوں نے بھی نقل کیا۔ اِرنا کے مطابق تیونس کے صدر نے جمعے کے روز ایرانی وزیر ثقافت رضا صالحی امیری سے ملاقات کے دوران "خطے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران عالمِ اسلام کو صہیونی قبضے کے وجود سے محفوظ رکھنے والا ملک ہے"۔ امیری ان دنوں تیونس کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔

تیونس کے ایوانِ صدارت کے سرکاری ترجمان رضا بوقزی نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات اور پابندیوں کے ہٹنے کے بعد ایران کو اس سے مستفید ہونے کی اہمیت پر تبادلہ خیال ہوا"۔ بوقزی کے مطابق تیونس کے صدر نے تہران پر زور دیا کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے اور خطے کے حالیہ تنازعات بالخصوص شام اور یمن کے بحرانات کے پر امن حل کی تلاش میں معاونت کرے تا کہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنا کر یہاں درپیش سب سے بڑے چیلنج دہشت گردی اور شدت پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایرانی نیوز ایجنسی اِرنا کا کہنا ہے کہ تیونس کے صدر نے ایران کو " صہیونی قبضے کے وجود کے سامنے کھڑے ہونے کے حوالے سے واحد امید قرار دیا اور اس امید کا بھی اظہار کیا کہ تمام عرب اور اسلامی ممالک اس سلسلے میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے"۔

فبركة معتادة

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا خبرں ، انٹرویوز ، سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات کے بیانات میں جعل سازی اور انہیں تروڑ مروڑ کر پیش کرنے کا مرتکب ہوا ہے۔ بعض مرتبہ تو وہ ایسے اداروں سے منسوب فرضی بیان تک گَھڑ کر جاری کر دیتا ہے جن کا وجود ہی نہیں ہوتا۔

اس نوعیت کے من گھڑت اور تحریف شدہ بیانات اب تک جن شخصیات سے منسوب کیے گئے ہیں ان میں عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسى ، سابق مصری صدر محمد مرسی اور اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہ ناصر عبدالعزیز شامل ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں