سیلین سیّک بوک انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں۔
ترکی : بڑی اپوزیشن جماعت کا پارلیمان کو خیرباد کہنے پر غور
ترکی کی حزب اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی نے اتوار کو ملک میں منعقدہ دستوری ریفرینڈم میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر پارلیمان کو خیرباد کہنے پرغور شروع کردیا ہے۔
ترک روزنامے حرّیت کے مطابق پارٹی کی خاتون ترجمان سیلین سیّک بوک نے کہا ہے کہ ’’ہم ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس کے خلاف اپنے تمام جمہوری حقوق کو استعمال کریں گے‘‘۔
مس بوک نے کہا کہ ریفرینڈم کا دوبارہ انعقاد ہونا چاہیے کیونکہ اس کی اعتباریت اور ساکھ پر ترکی اور بین الاقوامی سطح پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
ترکی میں منعقدہ دستوری ریفرینڈم کے نتائج کے مطابق ’’ ہاں‘‘ کے حق میں 51 فی صد سے زیادہ ووٹ آئے ہیں جبکہ ’’ناں‘‘ کے حق میں 49 فی صد ووٹ پڑے ہیں۔ اس طرح صدر رجب طیب ایردوآن بمشکل ہی ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی مجوزہ آئینی ترامیم کو عوامی ووٹوں سے منظور کراسکے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم کے لیے مہم غیر متوازن انداز میں چلائی گئی تھی اور ’’ہاں‘‘ کا پلڑا بھاری رکھنے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ صدر ایردوآن کے مخالفین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد ملک میں مطلق العنان شخصی حکمرانی کا راج ہوجائے گا۔