U.N. Special Envoy for Syria Staffan de Mistura (2nd L) attends a meeting of Intra-Syria peace talks with Syria's opposition delegation at Palais des Nations in Geneva, Switzerland , March 30, 2017. REUTERS/Xu Jinquan/Pool

شامی حزب اختلاف کی آستانہ امن مذاکرات میں شرکت معطل

اسد حکومت سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے وفد نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات میں شرکت معطل کردی ہے اور صدر بشارالاسد کی حکومت سے باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کے ترجمان احمد رمضان نے بتایا ہے کہ ’’ (ان کے) وفد نے آستانہ میں ایک یادداشت پیش کی ہے اور اس کے بعد امن مذاکرات میں شرکت معطل کردی ہے۔اس یاد داشت میں حکومت سے بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شامی باغیوں کا وفد جیش الاسلام کے رہ نما محمد علوش کی قیادت میں منگل کے روز اسد حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کے لیے آستانہ پہنچا تھا۔شامی فریقوں کے درمیان روس ،ترکی اور ایران کی حمایت اور ثالثی میں آج بدھ کو اس دو روزہ بات چیت کا آغاز ہوا ہے۔اس کے ایجنڈے میں شام میں جاری جنگ کا خاتمہ اور انتقال اقتدار کا موضوع سرفہرست ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں