بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے ضلع تارا نگر میں ’’گائے کے محافظ ٹولے‘‘ کے ارکان ایک ٹرکے کے معائنے کے لیے شاہراہ پر کھڑے ہیں۔ فائل تصویر

بھارت : گائے لے جانے والے دو مسلمان انتہا پسند ہندوؤں کے وحشیانہ تشدد سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں انتہا پسند ہندو دیہاتیوں نے ٹرک پر مویشی لے جانے والے دو مسلمانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر جان سے مار دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد کے نزدیک واقع مغربی بنگال کے علاقے میں ڈرائیور گایوں کو ٹرک پر لاد کر لے جارہے تھے۔ دیہاتیوں نے سڑک بند کر کے ان کے ٹرک کو روک لیا۔پھر انھوں نے دو مسلمانوں کو زبردستی ٹرک سے اتارا اور تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

مغربی بنگال کے سینیر پولیس افسر انوج شرما کا کہنا ہے کہ ٹرک کا ڈرائیور جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے لیکن وہ اس پہلو سے بھی تفتیش کررہی ہے کہ ڈرائیوروں نے قانونی طور پر مویشی خرید کیے تھے یا وہ اسمگلر تھے اور بڑے گوشت کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ ریاست مغربی بنگال میں گائے ذبح کرنے کی اجازت ہے جبکہ بھارت کی بہت سی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ یا اس کا گوشت کھانے پر پابندی عاید ہے اور بعض میں خلاف ورزی کی صورت میں عمر قید تک سزا دی جاسکتی ہے۔

بھارت میں اس سال انتہا پسند ہندوؤں کے مسلمانوں پر گائے لے جانے یا انھیں ذبح کرنے کے شبے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انتہا پسند ہندو گائے کا گوشت کھانے یا رکھنے کے شبے میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیتے ہیں ۔ایسے واقعات میں ملوث مجرم سزا صاف بچ نکلتے ہیں جس کی وجہ سے متشدد ذہنیت کے حامل ہندوؤں کی مسلمانوں پر اجتماعی تشدد کے لیے حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔

جون میں مغربی بنگال ہی میں تین مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا تھا اور ان پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر گائے چوری کررہے تھے۔ اسی ماہ ایک مسلم لڑکے کو چلتی ٹرین میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں چاقو گھونپ کر قتل کر دیا گیا تھا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کی اس طرح وحشیانہ تشدد سے ہلاکتوں کی مذمت کی تھی۔

اپریل میں ریاست راجستھان میں ایک ہجوم نے گائے لے جانے والے ایک مسلمان کو تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا۔یہ بدقسمت مسلمان ایک گوالا تھا اور دودھ دینے والی گایوں کو لے جارہا تھا۔اسی ریاست میں مئی میں دو اور مسلمانوں کو ہندوؤں نے اسی انداز میں تشدد سے ہلاک کر دیا تھا۔ان دونوں واقعات میں پولیس مبینہ طور پر مداخلت کرنے اور مقتولین کو بچانے میں ناکام رہی تھی۔

وزیراعظم مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 2014ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ان کی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی جیت کے بعد سے گائے کے خود ساختہ محافظوں کے مسلمانوں پر متشدد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔بی جے پی نے انتخابی مہم کے دوران میں پورے بھارت میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عاید کرنے اور اس کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دینے کا وعدہ کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں