بہرام قاسمی تہران میں 22 اگست 2016ء کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ۔ فائل تصویر

امریکا نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تو تباہ کن ردعمل آئے گا: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دیا تو اس کو ’’ تباہ کن‘‘ ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران نے یہ سخت بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے کے بارے میں حتمی فیصلے کے اعلان سے ایک ہفتے قبل جاری کیا ہے۔یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ 15 اکتوبر کو تاریخی جوہری معاہدے کی عدم تصدیق کا اعلان کریں گے۔اس کے بعد جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدہ عملی طور بے اثر ہوجائے گا۔

یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ امریکی صدر ایران کی طاقت ور سپاہ پاسداران انقلاب کو بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیں گے۔

لیکن ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سوموار کے روز نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ ہمیں امید ہے ،امریکا یہ تزویراتی غلطی نہیں کرے گا۔اگر انھوں ( امریکی صدر) نے ایسا کیا تو ایران کا ردعمل پختہ ، فیصلہ کن اور تباہ کن ہوگا اور امریکا کواس کے تمام مضمرات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘‘۔

واضح رہے کہ امریکا نے پاسداران انقلاب سے وابستہ افراد اور اداروں کو پہلے ہی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور ان کے نام امریکا کی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں لیکن اس نے سپاہ پاسداران انقلاب کو ایک تنظیم کی حیثیت سے دہشت گرد قرار نہیں دیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ اگر امریکی حکومت کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی حماقت سے متعلق خبر درست ہے تو پھر پاسداران انقلاب امریکی فوج کو دنیا بھر میں داعش کے ہم پلّہ سمجھیں گے ‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران پر اضافی پابندیاں عاید کی جاتی ہیں تو پھر امریکا کے ساتھ مستقبل میں مذاکرات کے امکانات ختم ہوجائیں گے اور امریکیوں کو خطے میں موجود اپنے علاقائی اڈوں کو پاسداران انقلاب کے میزائلوں کی رینج سے دو ہزار کلومیٹر دور لے جانا پڑے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں