Migrants from Libya wave from a boat as they wait to be rescued by the Aquarius rescue ship run by NGO SOS Mediterranee and Medecins Sans Frontieres (MSF) in the Mediterranean Sea, 20 nautic miles from the Libyan coast, on August 2, 2017. Angelos Tzortzinis / AFP

تیونس: مسافر کشتی بحریہ کے جہاز سے ٹکرانے سے 8 تارکینِ وطن ڈوب گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحر متوسطہ میں تیونسی بحریہ کے ایک جہاز سے ٹکرانے کے بعد غیر قانونی تارکین ِ وطن سے بھری ایک کشتی ڈوب گئی ہے اور اس حادثے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تیونس کی وزارت دفاع کے ترجمان بالحسن اوسلطی نے بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی پر سوار اڑتیس افراد کو بچا لیا گیا ہے اور سمند ر میں ڈوبنے والے آٹھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں ۔

ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ یہ حادثہ اتوار کی شب جزیرے قرقناہ سے چوّن کلومیٹر دور پیش آیا تھا اور یہ نامعلوم کشتی بحریہ کے جہاز سے ٹکرانے کے بعد سمندر برد ہوگئی تھی۔کشتی پر سوار مزید لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

اٹلی کے بعض میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس کشتی پر قریباً ستر تارکین ِوطن سوار تھے اور یہ تیونس کے ساحلی شہر صفاکس سے روانہ ہوئی تھی۔اس کشتی کو جس سمندری علاقے میں حادثہ پیش آیا ہے ، وہاں مالٹا کا بحری عملہ تلاش اور ریسکیو کی سرگرمیوں کا ذمے دار ہے۔

مالٹا کے کوسٹ گارڈ ز کا کہنا ہے کہ انھیں دو چھوٹے جہازوں میں تصادم کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔اس کے بعد امدادی ٹیم جائے حادثہ پر روانہ کردی گئی تھی لیکن انھوں نے اس حادثے کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس کی ساحلی حدود سے بھی غیر قانونی تارکینِ وطن چھوٹی کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ان کشتیوں سے اٹلی کے دوجزیروں سسلی اور لیمپڈوسا کی جانب جانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس دشوار گذار بحری سفر کے دوران میں ان میں سے بہت سے اپنی جانوں ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں