مدینہ منورہ کی بلدیہ کا دفتر

مدینہ منورہ میں پہلے ’ویمن بلدیہ‘ کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مدینہ منورہ سیکرٹیریٹ کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر میں پہلی خواتین بلدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ خواتین بلدیہ کے قیام کا مقصد مختلف شعبوں میں خواتین کو بہتر خدمات فراہم کرنا، ان کی فنی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا، انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ان کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا۔ خواتین بلدیہ کو تمام تر تجارتی سرگرمیوں کے لیے خود مختار بنایا جائے گا اور بلدیہ کی انتظامیہ ہر قسم کے تجارتی پرمٹ جاری کرنے کی مجاز ہوگی۔

ویمن بلدیہ خواتین کے لیے مختلف عمارتوں اور مراکز کی تعمیر، مانیٹرنگ آپریشنز، سرمایہ کاری اور خواتین کی ضروریات کے مطابق دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔

خواتین بلدیہ کے سیکرٹری محمد العمری نے بتایا کہ ’ویمن بلدیہ‘ کے قیام کا مقصد خواتین کی صلاحیتوں کو جلاء بخشتے ہوئے انہیں مختلف شعبوں میں کامیاب شہری بنانے میں ان کی معاونت کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مدینہ منورہ خواتین بلدیہ خواتین کی خدمات اور ان کی فنی مہارتوں سے استفادہ کرنے کا بہترین موقع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ملک کی ترقی میں مردوں کی طرح خواتین کا بھی کلیدی کردار ہوسکتا ہے کیونکہ معاشی ترقی اور خوشحالی کی گاڑی کے لیے مردو زن پہیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

العمری نے کہا کہ مدینہ منور ’ویمن بلدیہ‘ کے قیام کی طرز کے منصوبے سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ خواتین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ان کے علوم فنون سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھاکہ دیہی امور کے وزیر عبدالطیف آل الشیخ اس منصوبے کے سب سے بڑے معاون ہیں۔ خواتین کو زیادہ با اختیار اور ہنر مند بنانا مملکت کے اقتصادی ویژن اور معاشی ترقی کے خواب کا حصہ ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں