گریمی ایوارڈز میں ہیلری کی ٹرمپ پر نکتہ چینی ، ٹرمپ جونیئر کا کرارا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا لگتا ہے کہ نومبر 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں ہار جانے والی ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن ایک برس سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ریپبلکن امیدوار اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں اپنی شکست کی کڑواہٹ بھول نہیں پائی ہیں۔

اتوار کی شب معروف گریمی ایوارڈز کی تقریب کے دوران سابق وزیر خارجہ ہیلری ایک مضحکہ خیز منظر میں نظر آئیں۔ وہ امریکی صحافی مائیکل وولف کی کتاب "فائر اینڈ فیوری" سے ایک اقتباس پڑھ رہی تھیں جس میں امریکی صدر کی اپنی ذمّے داریاں پوری کرنے کی قدرت پر شکوک کا اظہار کیا گیا۔

نیویارک میں منعقد تقریب میں نشر کیے جانے والے ریکارڈ شدہ وڈیو کلپ میں ہیلری نے کتاب سے پڑھتے ہوئے کہا کہ "وہ (صدر ٹرمپ) خود کو زہر دیے جانے سے خائف تھے، اس چیز نے انہیں میکڈونلڈز میں کھانے پر مجبور کر دیا۔ اس لیے کہ کسی کو ان کی آمد کا معلوم نہ ہو جس کا مطلب ہوا کہ کھانا محفوظ ہو گا"۔

ٹرمپ سے عداوت رکھنے والے کیمپ میں شامل فن کاروں نے بھی اس کتاب سے مختلف اقتباسات پڑھے جن میں اسنوپ ڈاگ شامل ہے۔

وہائٹ ہاؤس میں سابق تزویراتی تجزیہ کار اسٹیف بینن اعلانیہ طور پر ان تمام معلومات پر صدر ٹرمپ سے معذرت کر چکے ہیں جو بینن کی زبانی اس کتاب میں شامل کی گئی۔

امریکی صدر نے بھی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا پہلا جامع طبی معائنہ کروا ڈالا تا کہ ان کی صلاحیتوں اور قدرت کی تصدیق ہو سکے۔ اس معائنے کے نتائج متاثر کن حد تک ٹرمپ کے حق میں آئے۔

ادھر موسیقی کے ایوارڈز کی تقریب میں ہیلری کلنٹن کی جانب سے مذکورہ کتاب کا اقتباس پڑھنے پر امریکی صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اپنی دو ٹوئیٹس میں سابق وزیر خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔

ٹرمپ جونیئر نے کہا کہ گریمی ایوارڈز میں ایک جعلی کتاب کا اقتباس پڑھنا صدارت سے محروم ہونے پر تعزیت کا اظہار نظر آتا ہے۔ دوسری ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ ہنری کلنٹن جتنی بار ٹیلی وژن اسکرین پر نمودار ہوتی ہیں ، ہر بار امریکیوں کے نزدیک کرسی صدارت پر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے لطف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں