Your browser doesn’t support HTML5 video

داعش سے تعلق رکھنے والے 100 جرمن بچوں کا DNA ٹیسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے یورپی ارکان کی موت کے بعد ان کے بیوی اور بچوں کو دربدری کی حالت کا سامنا ہے۔

برلن میں جرمن حکام نے دو روز قبل اعلان کیا کہ عراق اور شام میں داعش تنظیم کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے جرمن خاندانوں سے تعلق رکھنے والا پہلا بچّہ جرمنی کی سرزمین پر پہنچ گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بچّے کی عمر 14 ماہ ہے اور وہ عراق کے شہر تلعفر میں داعش تنظیم کے شہر پر قبضے کے دوران پیدا ہوا۔ بچّے کے ماں باپ کو عراق میں حراست کے دوران دہشت گردی سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ اس بچّے کو اُس کی دادی کے پاس جرمنی واپس بھیجا گیا ہے۔

دوسری جانب داعش تنظیم کے غیر ملکی بچوں کی اپنے وطنوں کو واپسی کے اقدامات بھرپور مذاکرات اور پیچیدہ نوعیت کے حیاتیاتی ٹیسٹوں کے متقاضی ہیں۔ جرمنی اس وقت عراقی حکومت کے ساتھ مل کر 100 سے زیادہ بچوں کے DNA ٹیسٹ کے لیے کام کر رہا ہے تا کہ ان بچوں کا اپنے اُن والدین سے تعلق ثابت کیا جا سکے جو جرمن پاسپورٹ کے حامل ہیں۔

یاد رہے کہ جرمن باپ یا ماں کا کوئی بھی بچّہ جو جرمنی سے باہر پیدا ہوتا ہے، اسے ملکی قانون کے تحت جرمن شہریت مل جاتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں