(FILES) In this file photo taken on August 28, 2018 US Secretary of Defense Jim Mattis speaks alongside Chairman of the Joint Chiefs of Staff General Joseph Dunford (L) as he holds a meeting with Indonesia Defense Minister Ryamizard Ryacudu at the Pentagon in Washington, DC. US Defense Secretary Jim Mattis is not a fan of appearing on television and he would rather not see his name in the newspaper. In other words, the former Marine general likes to do keep his head down and do his job with the least fuss a top member of President Donald Trump's cabinet can muster.But this week, the Pentagon chief found himself smack in the middle of a media firestorm in Washington. Veteran political reporter Bob Woodward, in his new book about Trump, describes a White House mired in a perpetual "nervous breakdown", with staff battling to corral the angry impulses of a paranoid leader.

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے آپریشن کی حمایت جاری رکھیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ واشنگٹن یمن میں آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے جاری آپریشن اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج کی کارروائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

"العربیہ" چینل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے جیمز میٹس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا عرب اتحاد کی حمایت اور مالی مدد جاری رکھے گا اور سعودی عرب کے دفاع کی پالیسی سے دست بردار نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور عرب اتحاد یمن میں آئینی صدر عبد ربہ منصور ھادی کی حکومت کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے غیرقانونی طورپر آئینی حکومت کا تختہ الٹ رکھا ہے۔امریکی حکومت یمن میں حوثی باغیوں کی حکومت کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کرے گی۔

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اور مغربی طاقتیں یمن میں آئینی حکومت کو اسلحہ اورمعلومات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں‌ گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں