چین
امریکا کا چین پر سائبرحملوں کے لیے ہیکروں کی معاونت کا الزام
امریکی وزارت انصاف نے چین پر بین الاقواہی ہیکروں کی معاونت اور امریکی کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔
جمعرات کے روز امریکی وزارت انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی پرائیویٹ کمپنیوں اور حکومتی ایجنسیوں کے نیٹ ورک تک رسائی میں دو چینی باشندوں پر ہیکلنگ کا الزام ثابت ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی ہیکروںنے امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' اور امریکی بحریہ کی ویب سائیٹس کو ہیک کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی بنکوں اور 12 ممالک کی مواصلاتی کمپنیوں کو ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب چین نے امریکا کی طرف سے ہیکروں کی معاونت کے الزامات مسترد کردیے ہیں اور کہا ہے کہ واشنگٹن خود حقائق کو مسخ کرنے اور بیجنگ کو بدنام کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی نائب وزیر انصاف روڈ رزوزنسٹین نے کہا کہ چینی حکومت سنہ 2015ء کے دوران صدر شی جن پنگ کی جانب سے کیے گئے عہد کی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ چینی صدر نے امریکا کویقین دلایا تھا کہ وہ امریکی کمپنیوں اور اداروں پر سائبرحملوں میں معاونت نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات نا مناسب ہے کہ ہم بار بار چین کےدوسرے ممالک کے خلاف سائبر جرائم کا پردہ چاک ہیں۔