Your browser doesn’t support HTML5 video
فلپائن میں پلاسٹک کی بوتلوں کے ڈھیرنے پارک کو گل گلزار بنا دیا
دنیا بھر میں پلاسٹک کی بوتلیں اور کوڑے کرکٹ میں اضافے کا باعث بنتی ہیں مگرفلپائن میں لوگوں نے پلاسٹک کی بوتلوں کے ایک انبار کو مصنوعی پھولوں میں تبدیل کرکے ایک بےکار بوتلوں کو کارآمد چیزوں میں تبدیل کردیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی فلپائن کے ایک شہرمیں پلاسٹک کی بوتلوں کو رنگین پھولوں والے ایک پارک میں تبدیل کر دیا ہے۔ مصنوعی پھولوں کے باغات کو دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد اس پارک کا رخ کررہی ہے۔
ٹیولپ گارڈن پیر کے روز سیاحوں کے لیے کھولا گیا۔ اس میں 26،877 پلاسٹک کی بوتلیں ملک کے جنوب مغربی علاقوں کے 45 دیہاتوں سے جمع کی گئیں۔
یہ تخیل اس وقت پیدا ہوا جب مقامی شہریوں نے پلاسٹک کی بوتلوں کو پھولوں کی شکل میں کاٹ کر انہیں سرخ ، پیلا ، گلابی اور نیلے رنگ میں رنگنے کے بعد سیمنٹ اور ریت کے ذریعے پارک کی پکڈنڈیوں کے اطراف میں خوبصورت انداز میں سجا دیا۔
خیال رہے کہ فلپائن پلاسٹک کے ساتھ سمندرکے پانی کو آلودہ کرنے کا ایک بہت بڑا سبب بتایا جاتا ہے۔ فلپائن میں پلاسٹک کی باقیات کی انتہائی معمولی مقدار کو ری سائیکل کیا جاتا ہے۔