An Afghan security personnel arrive at the site of suicide attack in Jalalabad east of Kabul, Afghanistan, Friday, Oct. 25, 2019. An Afghan official says a suicide attack has targeted a convoy carrying officials from the country's intelligence service, killing five people, including a child, in eastern Nangarhar province. The Taliban claimed the attack. (AP Photo/Wali Sabawoon)

افغانستان: فوجی چیک پوائنٹ پر حملے میں 15 سکیورٹی اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ میں منگل کی صبح فوج کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے میں پندرہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع نے قبل ازیں اس حملے میں سات فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی مگر بعد میں پندرہ اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’دشمن‘‘ نے صوبہ بلخ میں واقع ضلع دولت آباد میں ایک چیک پوائنٹ پرحملہ کیا تھا۔اس میں چھے سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان میں تین فوجی اور تین انٹیلی جنس ایجنٹ ہیں۔حکام نے حملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن وزارت دفاع کے بیان میں استعمال کیے گئے الفاظ سے عیّاں ہے کہ حکام نے طالبان پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے اور وہ اس ضلع میں بہت متحرک ہیں۔

واضح رہے کہ افغان وزارت دفاع طالبان یا دوسرے جنگجوؤں کے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی بالعموم کم تعداد بتاتی ہے جبکہ طالبان اپنے حملوں میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

افغانستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور سرد موسم میں لڑائی میں عارضی وقفے کے باوجود طالبان نے سکیورٹی چیک پوائنٹس پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔طالبان عام طور پر موسم سرما میں اپنے حملے روک دیتے یا کم کردیتے ہیں اور تین چارماہ کے دوران میں ازسرنو اپنی صف بندی کرتے ہیں۔وہ پھر فروری کے آخر یا مارچ میں بھرپور انداز میں افغان سکیورٹی فورسز پر اپنے حملوں آغاز کردیتے ہیں۔

اس سال کے دوران میں طالبان کے حملوں میں افغان سکیورٹی فورسز کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے جس کے پیش نظر حکومت نے ملک کے دور دراز علاقوں میں واقع چیک پوائنٹس کو خالی کردیا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق طالبان کا اس وقت افغانستان کے نصف علاقے پرعملی کنٹرول ہے۔ انھوں نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے باوجود افغان اور امریکی فورسز پر کم وبیش روزانہ ہی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔سوموار کے روز شمالی صوبہ کندوز میں جھڑپ میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔طالبان نے سڑک کنارے ایک تباہ کن بم دھماکا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس میں امریکی اور افغان فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں