Your browser doesn’t support HTML5 video
ڈبلیو ایچ او نے سعودی عرب کے حج کو محدود کرنے کے فیصلے کی حمایت کردی
عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے سعودی عرب کے اس سال حج کے محدود پیمانے پر انعقاد کے فیصلے کی حمایت کردی ہے۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادانوم غیبریوسس نے بدھ کو جنیوا میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے ڈبلیو ایچ او کے کرونا وائرس کے خطرے کے جائزے کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا ہے۔
تیدروس ادانوم نے کہا کہ ’’ اسی ہفتے مملکت سعودی عرب کی حکومت نے اس سال محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا ہے اور مملکت میں مقیم مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہری ہی فریضہ حج ادا کرسکیں گے۔یہ فیصلہ ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کی روشمی میں مختلف منظرناموں کے تجزیے اور خطرے کے جائزے کی روشنی میں کیا گیا ہے تاکہ عازمین حج کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے اور کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’ ڈبلیو ایچ او اس فیصلے کی حمایت کرتا ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس سے ان بہت سے مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے، جو اس سال فریضۂ حج ادا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘‘
تیدروس ادانوم نے سعودی عرب کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مشکل انتخاب کی ایک اور نمایاں مثال ہے اور تمام ممالک کو صحت کو اوّلین ترجیح دینی چاہیے۔‘‘
سعودی عرب نے سوموار کو اس سال کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا تھا۔حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے اور یہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔گذشتہ سال پچیس لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید نے فریضۂ حج ادا کیا تھا۔