تہران میں ایرانی خواتین کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ماسک پہنے جارہی ہیں۔ فائل تصویر

ڈنمارک میں خواتین پرغیرقانونی طلاق کے لیے دباؤکیوں ڈالا؟کوپن ہیگن میں ایرانی سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے کوپن ہیگن میں متعیّن ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے ایرانی خواتین پر طلاق کے مؤثر ہونے سے متعلق مقامی ائمہ کی تجویز کردہ شرائط کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر احتجاج کیا ہے۔

ڈینش میڈیا میں حال ہی میں ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ڈنمارک میں مقیم ائمہ کی جانب سے خواتین پر طلاق کی ڈیل کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

ایک مقامی امام نے میاں اور بیوی کے درمیان علاحدگی کے لیے ایسا سمجھوتا طے کرایا ہےجس میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر طلاق شدہ عورت نے کسی دوسرے مرد سے شادی کی تو اس کو بچوں کی تحویل سے محروم ہونا پڑے گا۔

ڈینش وزیر خارجہ جیپ کفوڈ نے کہا ہے کہ ’’ میں ایرانی سفارت خانے سے متعلق افواہوں کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہوں کہ اس نے بعض خواتین کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور ان پر طلاق کے ڈینش کاغذات کی مذہبی توثیق کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔‘‘

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اسی وجہ سے ہم نے فوری طور پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔‘‘مسٹر کفوڈ کا کہنا تھا کہ’’کسی بھی سفارت خانے کی ڈینش قانون اور ڈنمارک میں مروج بنیادی جمہوری اقدار کے منافی کسی بھی معاملے میں مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ’’جس قسم کے مذہبی کنٹرول کی میڈیا کے ذریعے اطلاعات سامنے آرہی ہیں، ان کا ڈنمارک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں