الصيدلانية التي تعرضت للسحل

مصر : حجاب نہ پہننے پر نوجوان فارماسسٹ خاتون پر تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک خاتون فارماسسٹ کو کام کی جگہ پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے عوامی حلقوں میں غصے کی لہرا دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ الشرقیہ صوبے میں پیش آیا جہاں کفر عطا اللہ گاؤں کے ایک طبی مرکز میں نوجوان خاتون ایزیس مصطفی کو اس کی ساتھی خواتین نے حجاب نہ پہننے پر زدوکوب کیا۔

واقعے سے متعلق وڈیو کلپ میں طبی مرکز کی دو خواتین ایزیس کو بری طرح پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہی ہیں۔ خواتین نے ایزیس کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹنے کی بھی کوشش کی تاہم مرکز کے دیگر ملازمین نے خاتون فارماسسٹ کو مزید تشدد سے بچایا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

عینی شاہدین کے مطابق ایزیس کو اپنی ساتھی خواتین کی جانب سے ایک عرصے سے خراب برتاؤ کا سامنا تھا۔ اس روز ان خواتین نے ایزیس کو حاضری کے رجسٹر میں دستخط کرنے سے روک دیا۔ اس پر معاملہ جھگڑے اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ نوجوان فارماسسٹ نے اپنی دیگر تصاویر بھی جاری کی ہیں جن میں اس پر جسمانی تشدد اور حملے کے نشانات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

الشرقیہ صوبے کے گورنر ممدوح غراب نے پیر کی دوپہر ایزیس مصطفی کو دعوت دی تا کہ واقعے پر معذرت پیش کر سکیں۔

ساتھ ہی گورنر نے واقعے کی وسیع تحقیقات اور تمام قانونی اقدامات کیے جانے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں