خرطوم میں سوڈانی مظاہرین سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک نوجوان کواسٹریچر پرڈال کرلے جارہے ہیں۔
سوڈان: سکیورٹی فورسزکی فوجی بغاوت مخالف مظاہرین پرفائرنگ، دوافراد ہلاک
سوڈان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں مظاہرین پرفائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔فوجی بغاوت مخالف ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
جمہوریت نواز ڈاکٹروں کی کمیٹی نے بتایا کہ مظاہرے میں شریک ایک شخص کے سینے میں گولی لگی تھی اور دوسرے کے سرپر’’شدیدزخم‘‘آیا تھا۔اکتوبرمیں فوج کے اقتدارپرقبضے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 56 ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
من مظاهرات السودان (فرانس برس 2 يناير)
سوڈان میں جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت فوج کے حکومت پرمکمل قبضے اوروزیراعظم کو معزول کرنے کے بعد حراست میں لینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
تاہم فوج نے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے ساتھ21 نومبر کو ایک معاہدہ طے کیا تھا اور انھیں کے عہدے پر بحال کر دیا تھا لیکن مظاہرین اس اقدام سے مطمئن نہیں ہوئے،وہ ملک میں مکمل جمہوریت کی طرف پیش رفت کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس ضمن میں فوجی حکمرانوں کے وعدوں پراعتمادکرنے کو تیارنہیں۔
وزیراعظم اور فوج کے درمیان طے شدہ معاہدے میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک آزاد کابینہ کی تشکیل پرزوردیا گیا تھا۔تاہم اس کو جمہوریت نواز تحریک نے مسترد کردیا تھا۔اس کا اصرار ہے کہ اقتدارمکمل طور پرسویلین حکومت کے حوالے کیا جائے اور جمہوریت کی جانب منتقلی کے عمل کی وہی قیادت کرے۔