8b8c2c24-dc24-43c9-a5e7-9a13af80d248_16x9_1200x676

سعودی فیشن ڈیزائنر نے روایتی اور لوک ملبوسات کا فرق کیسے نمایاں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں روایتی ملبوسات ڈیزائن کرنے کی ماہر منیرہ الربیعہ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ روایتی، لوک اور قدیم ملبوسات کے ڈیزائنز کو آپس میں گڈ مڈ کرتے ہیں، مگر روایتی اور لوک ملبوسات میں فرق نمایاں ہے۔ ان ملبوسات میں زمان ومکان کے اعتبار سے فرق موجود ہے۔

الربیعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ روایتی پہناوے وہ ہیں جو ایک مخصوص علاقے میں ایک زمانے میں پہنے جاتے رہے ہیں۔ یہ ملبوسات اس خطے کی شناخت اور پہچان بن گئے۔ اب انہیں قومی دنوں پر پہنا جاتا ہے کیونکہ یہ ملبوسات قومی تشخص کی علامت یا ایک علاقے کی پہچان بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی خواتین سعودی قومی ورثے کا روایتی لباس پہنتی ہیں جب کہ مصری عورتیں روایتی مصری لباس پہنتی ہیں۔

عوامی لباس

انہوں نے مزید کہا کہ لوک لباس کئی تہذیبوں اور مقامات سے مستعار لیے گئے لباس کا ایک مجموعہ ہے۔ یہ مصری یا یمنی ورثے سے متاثر ایک عوامی لباس ہو سکتا ہے، لیکن یہ خطے کی شناخت کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ یہ ایک شاخ ہے اور اصل نہیں ہے۔

منیرہ الربیعہ نے کہا کہ لوک لباس کوئی مخصوص شناخت نہیں بناتے ہیں اور وہ اکثر بعض ممالک کے روایتی لباس سے مستعار لیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ایک غیر اماراتی عورت اماراتی برقع پہنتی ہے اور کوئی غیر مصری خاتون مصری لباس پہنتی ہے۔

عوامی لباس کی ایک جھلک

یہ عوامی لباس ہوتا ہے جسے ورثے کی علامت لباس نہیں سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اسے پہننے والے کے لیے قومی شناخت کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسی طرح مذہبی مواقع پر پہنا جانے والا لباس جیسے کہ ماہ رمضان یا جسے عوامی مناسبات کہا جاتا ہے یا خواتین کے لیے مختص مجالس میں جو لباس پہنا جاتا ہے۔ اسے ورثے کی نمائندگی کرنے والا لباس نہیں قرار دیا جاتا۔

قدیم لباس

سعودی ڈیزاینر الربیعہ نے کہا کہ قدیم کپڑے ایسے ملبوسات ہیں ہیں جو آثار قدیمہ کی ڈرائنگ کے علاوہ موجود نہیں ہیں، جیسے پتھر، غاروں، یا کاغذات، یا کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں، لیکن اب موجود نہیں ہیں اور اب پہنا نہیں جاتا ہے۔

اس نے کہا کہ یہ کپڑے اب کوئی نہیں پہنتا، وقت کے ساتھ متروک اور غائب ہو گئے۔اب وہ ماضی کا حصہ ہیں اور کوئی شناخت نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی دکانیں جن پر روایتی کپڑے بیچے جاتے ہیں۔ وہ عوامی ملبوسات فروخت کرتی ہیں نہ کہ روایتی کپڑے۔ اس لیے بہتر ہے کہ انہیں لوک "لوک کپڑے" قرار دیں کیونکہ وہ عوامی نمائندگی توکرتے ہیں مگر کسی مخصوص قومی شناخت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

قابل ذکر ہے کہ منیرہ الربیعہ ایک سعودی فیشن ڈیزائنر ہیں جو روایتی فیشن ڈیزائن کرنے کے فن میں مہارت رکھتی ہیں۔ وکٹورین دور میں ڈیزائن سے محبت کے باوجود ان کا ماننا ہے کہ روایتی فیشن کو زندہ کرنا ایک قومی فریضہ ہے اور وہ اس سے محبت کرتی ہیں۔ تاریخ اور ورثے کی کتابوں میں تحقیق اور علم کا ذخیرہ ہے۔ وہ اس ورثے کو جمع کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ اس کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ اس کی تمام تر تفصیلات کے ساتھ محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں