یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی
یوکرینی صدر کا بائیڈن کو فون، روس پر پابندیوں اوردفاعی امداد پر بات چیت
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات چیت کی۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ میں نے بائیڈن کے ساتھ امریکا کی روس کے خلاف پابندیوں اور یوکرین کو دفاعی امداد کے بارے میں بات کی۔
زیلنسکی نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر کیف کو شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) میں شامل نہ کیا گیا تو سیکیورٹی کی ضمانتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے "کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی" کی شرط کا اعلان کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یوکرین کے صدر نے اپنے ملک کے دفاع کے لیے یورپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم روس کے خلاف اپنی جنگ جیتیں گے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے دی گئی تقریر میں کہی۔ یہ اجلاس یوکرین میں جنگ کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے وقف تھا۔
یوکرین کے صدر نے کہا کہ روسی حملہ ہمیں ہماری آزادی اور وجود کو ختم کرنے کے لیے ہے اور ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورپ کے ساتھ رہنے کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم یورپی یونین کے اندر رہنا چاہتے ہیں۔
منگل کو روسی فوجی آپریشن اپنے چھٹے دن میں داخل ہوگیا۔ یوکرین کے صدر نے خارکیف پر روسی بمباری کو ایک "جنگی جرم" قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ کیف کا دفاع ان کے ملک کے لیے "اولین ترجیح" ہے۔
انہوں نے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بیان میں کہا کہ خارکیف پر بمباری ایک جنگی جرم ہے۔ یہ روس کی طرف سے ریاستی دہشت گردی ہے۔انہوں نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ آج دارالحکومت کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس سے قبل یوکرینی صدر نے ماسکو سے مطالبہ کیا کہ دنیا کی تمام بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر پابندی عائد کی جائے اور روس کو مشورہ دیا کہ وہ یوکرین میں "اپنا وقت ضائع" نہ کرے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین کے شہروں پر اس کی افواج کی بمباری کییف کو ماسکو کی طرف سے جنگ بندی کے لیے مقرر کردہ شرائط پر رضامند نہیں کرے گی۔
منگل کے روز "فیس بک" پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو کلپ میں ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور پیر کے روز ہوا۔ اس دوران بھی روس کی طرف سے یوکرین پر بمباری جاری رکھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ممنوعہ بم کے استعمال کا الزام
واشنگٹن میں یوکرین کے سفیر نے الزام عاید کیا ہے کہ روس نے جنیوا معاہدے کے تحت ممنوعہ بم کا استعمال کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ویکیوم بم جنیوا کنونشن کے تحت استعمال کرنا جرم ہے اور روس نے یوکرین پر بمباری کے دوران یہ بم استعمال کیے ہیں۔
اوکسانا مارکارووا نے روس پر الزام لگایا کہ وہ ان کے ملک کو ممکنہ طور پر سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے ماسکو کو ان اقدامات کو دہرانے کے خلاف خبردار کیا جو کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مذاکرات کا دوسرا دور
یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی اور یوکرین کے وفود پیر کو مذاکرات کے بعد اپنے اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کے لیے واپس چلے گئے تھے۔ جس کئ بعد دونوں ممالک نے مذاکرات کے دوسرے دور پر رضا مندی ظاہر کی۔
یوکرین نے مذاکرات کاروں میں سے ایک میخائیلو پوڈولیاک نے کہا کہ دونوں فریقوں نے ترجیحات اور مسائل کے سلسلے کی نشاندہی کی ہے جن کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد سے قبل کچھ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلےمرحلے کی بات چیت مشکل تھی۔
دریں اثنا ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر میڈنسکی نے عندیہ دیا کہ نئی ملاقات پولش بیلاروسی سرحد پر جلد ہوگی۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل روسی مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے کہا کہ ان کا ملک ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے جو فریقین کے مفاد میں ہو۔