الحشد العسكري الروسي نحو كييف (فرانس برس)

روس اور یوکرین

یوکرینی دارالحکومت میں ہتھیار ڈالنے کے تیاریاں عروج پر ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے جاری رہنے کی روشنی میں روسی افواج کیف طوفان کی طرح کیف کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے قریب پہینچ گئی ہیں۔ دوسری طرف ایک امریکی اہلکار نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر یوکرینی دارالحکومت میں ہتھیار ڈالے جاتے ہیں تو ان کا ملک اور اس کے اتحادی یوکرین میں ایک طویل جنگ کی حمایت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے اتحادی کیف میں روس کے خلاف سڑکوں پر جنگی کارروائیوں کی ہدایت کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اسے اس قسم کی جنگ کے لیے موزوں ہتھیار اور ساز وسامان فراہم کر رہے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

امریکی الرٹ اور یوکرین کی عبوری حکومت

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ یوکرین کو امریکا کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ہتھیار اسٹریٹ وار کے مرحلے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کیف پر روس کے ممکنہ قبضے نے پینٹاگان اور امریکی ایجنسیوں کو متحرک کر دیا ہے۔ مغرب "یوکرین کی جلاوطن حکومت" کی تیاری کر رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کیف کا سقوط ہوجاتا ہے تو پولینڈ عبوری یوکرینی حکومت کی نشست ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اعلان کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی محاذ جنگ کی حالیہ پیش رفت کے درمیان یوکرین کے دارالحکومت کے زوال کے بعد کے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اب تک مغربی شہر لیویو جانے سے انکار کر دیا ہے۔

ماسکو دارالحکومت کا محاصرہ کر رہا ہے

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فوج کی جانب سے ہفتے کی صبح اعلان کیا گیا تھا کہ روس یوکرین کے دارالحکومت کیف اور مشرقی شہر خارکیف کا محاصرہ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس نے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو کی فوج فضائی مدد اور پیچیدہ ہتھیاروں کی مدد سے تیزی کے ساتھ پیش قدمی کررہی ہے۔ روسی افواج نے لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں کی انتظامی سرحدوں تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق روسی حملے کو پسپا کرنے کے لیے دارالحکومت کیف میں دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو نے جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپول کے دفاع میں کمزوریوں کی نشاندہی کی جبکہ لڑائی سے متعلق معلومات کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں