Ukraine and Russia

روس اور یوکرین

یوکرینی مذاکرات کار قتل، کیف کا ماسکو پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرائع ابلاغ کی جانب سے روس کے ساتھ یوکرین کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کی ہلاکت کی اطلاع کے بعد، یوکرینی حکام نے ان معلومات کی تصدیق کی ہے۔

ہفتے کے روز ایک بیان میں یوکرینی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن سمیت اپنے 3 ملازمین کے قتل کا اعلان کیا۔ کیف نے قتل کے ان واقعات کا الزام ماسکو پر عاید کیا ہے۔

جلد ہی مذاکرات کا تیسرا دور ہو گا

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب تنازع کے دونوں فریق روسی یوکرینی مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یوکرین کی حکمران جماعت کے رہ نما نے اعلان کیا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ پیر کو ہوگا۔

یوکرین کے صدارتی مشیر اولیکسی ارستووچ نے جمعے کو ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ ان کا ملک روس کے ساتھ کسی بھی بات چیت کے وقت یا مقام کی پیشگی تفصیلات شیئر نہیں کرے گا۔

تاہم بعد میں یوکرینی ایوان صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات کا نیا دور ہفتے کے آخر میں ہوگا۔

یہ بیانات یوکرین کے صدر کے مشیر میخائیلو پوڈولک کے جمعرات کی شام اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ دوسرا دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ مذاکرات کا راؤنڈ ختم ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی سے یوکرین نے ابھی تک وہ نتائج حاصل نہیں کیے ہیں جن کی اسے ضرورت ہے۔۔ ہمیں فوری طور پرانسانی ہمدری کی بنیا پر راہ داریوں کو کھولنے کی ضرورت ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دوسری جانب یوکرین کے ساتھ مذاکرات کرنے والے روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے کہا کہ روس اور یوکرین متعدد نکات پر مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی وزارت دفاع نے شہریوں کے انخلاء کے لیے راہداری بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

کل روسی وفد نے تین فائلیں پیش کیں جن میں "فوجی، تکنیکی، انسانی، بین الاقوامی اور سیاسی"امور شامل ہیں میڈنسکی نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں