یوکرینی فوج کا ٹینک کیف کے قریب تعینات ہے۔ فوٹو رائیٹرز۔
برطانوی وزارت دفاع نے کل اتوار کوانکشاف کیا ہے کہ روس نے بحیرہ اسود کے یوکرینی ساحل پر ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے جو عملی طور پر یوکرین کو بین الاقوامی نیویگیشن سے الگ کر دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی بحریہ بھی وقتاً فوقتاً پورے یوکرین کے اہداف پر میزائل حملے کرتی رہتی ہے۔
یہ اعلان یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مشیرکی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے کہ روسی افواج مشرق میں ان کے ملک کی افواج کو گھیرے میں لینے اور ان کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ولیکسی ارستووچ نے کہا کہ کہ یوکرین کی افواج چھوٹے جوابی حملے شروع کر رہی ہیں جب کہ روسی فوج ملک کے مشرق میں انہیں گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
گلیوں میں لڑائی
یوکرین کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی افواج بہت سے محاذوں پر ثابت قدمی سے لڑ رہی ہیں۔ خاص طور پر جنوب اور مشرق میں فوج پوری طاقت سے مزاحمت کررہی ہیں۔ روسی افواج کچھ جگہوں پر خود کو تبدیل کر رہی ہیں۔
جبکہ انٹیلی جنس نے اشارہ کیا کہ روسی افواج جن علاقوں میں داخل ہوئی ہیں خاص طور پر ملک کے جنوب مشرقی یا مشرق میں جلد ہی ان کے ساتھ گلیوں میں لڑائی ہوگی اور گوریلا حملے کیے جائیں گے۔