A US drone aircraft lands at Afghanistan's Jalalabad Airport where a US C-130 military transport plane crashed in Jalalabad on October 2, 2015. The Taliban claimed October 1 to have shot down a US military transport plane in eastern Afghanistan in a crash that killed 11 people, as the battle for Kunduz raged after the emboldened militants briefly seized the city.The Taliban's stunning success in Kunduz, their biggest tactical success since 2001, marks a blow for Afghanistan's NATO-trained forces, who have largely been fighting on their own since December 2014. NATO has not yet confirmed the cause of Friday's crash. The Taliban regularly claim to have shot down military aircraft.Our mujahideen have shot down a four-engine US aircraft in Jalalabad, Taliban spokesman Zabihullah Mujahid said on Twitter.Based on credible information 15 invading forces and a number of puppet troops were killed. AFP PHOTO / Noorullah Shirzada
کابل ڈرون حملہ،پاکستان نے امریکی ڈرونز کو فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دی:ملا یعقوب
طالبان حکومت نے نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ امریکی ڈرونز کو افغانستان میں حملے کے لیے پاکستان نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کا اجازت دی۔ پاکستان کابل میں حالیہ ڈرون حملے کےبعد اس بارے میں پہلے ہی تردید کر چکا ہے۔
طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ' ڈرونز پاکستان کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔
قائم مقام وزیر دفاع نے کہا ' ہماری اطلاعات کے مطابق ڈرونز پاکستان کے راستے داخل ہو رہے ہیں، امریکی ڈرونز پاکستانی کی فضائی حدود استعمال کرتے ہیں ، ہم نے اس بارے میں پاکستان سے کہا ہے کہ اپنے حدود کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔''
تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس بارے میں جواب نہیں دیا ہے اور نہ ہی درخواست پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ البتہ پاکستان کے حکام ماہ جولائی میں کابل میں کیے گئے امریکی ڈرون حملے کے بعد سے ہی اپنے ملوث ہونے کا انکار کرتے ہیں۔
واضح رہے جولائی میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بننے والا القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری اسی ڈرون حملے میں نشانہ بنے تھے، جن کی لاش ابھی تک نہیں مل سکی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کی لاش کے سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔
ملا یعقوب کے ان کمنٹس کے بعد افغانستان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات میں مسائل آ سکتے ہیں۔ خصوصا ایسے وقت میں جب طالبان حکومت ، ٹی پی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے۔