سامی کے سربراہ احمد العوھلی۔

سعودی ویژن 2030

سعودی عرب:2021-22 میں مقامی عسکری صنعت کی ترقی کے لیے1.4ارب ڈالرکی مراعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے دفاعی صنعت کے گورنراحمدالعوهلی نے پیر کے روز کہا ہے کہ گذشتہ دوسال کے دوران میں مقامی فوجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے مراعات کی مد میں ایک ارب 40 کروڑڈالر(5.1ارب ریال) خرچ کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مراعات میں 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر (3.3ارب ریال) شامل ہیں جو 2021 اور 2022 کے دوران میں تحقیق اورترقی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔انھوں نے مزیدکہا کہ باقی 47 کروڑ86 لاکھ ڈالر (1.8 ارب ریال) مملکت کے فوجی شعبے کی کمپنیوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ان میں سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹریز (ایس اے ایم آئی) بھی شامل ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے ٹویٹرپرالعوھلی کی ایک ویڈیو تقریرشیئرکی ہے۔اس میں انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ فوجی شعبہ 2030 تک سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)میں قریباً 25.2 ارب ڈالر (95 ارب) ریال کا حصہ ڈالے گا۔

سامی کے چیف ایگزیکٹوآفیسرولید ابوخالد نے کہا کہ کمپنی آیندہ برسوں میں بغیرپائلٹ کے نظام، ریڈار اور سائبرسکیورٹی پر توجہ مرکوز کرے گی۔

دونوں عہدے دارالریاض میں منعقدہ ایک فورم میں خطاب کررہے تھے۔اس فورم میں سعودی عرب کے مالی سال 2023 کے اعلان کردہ بجٹ کے تناظر میں ماہرین،وزراء اور عہدے داروں نے قومی معیشت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 2016 میں اعلان کردہ ویژن 2030 میں مقامی صنعتوں کی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اس کے تحت تیل کی معیشت پرانحصار کم کرنے کے لیے فوجی شعبے سمیت تمام مقامی صنعتوں کو ترقی دی جارہی ہے۔

ولیدابوخالد نے کہا کہ اس سے پہلے سعودی عرب کا دفاعی بجٹ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہوتا تھا، اب اخراجات کو معقول بنانے کی وجہ سے یہ نواں بجٹ ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں