عراق کی سرحد سے متصل شام کے علاقے البوکمال کی مشرقی گورنری میں ٹرکوں کے قافلے پرمبینہ اسرائیلی حملے میں ایرانی عہدیداروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
نامعلوم طیاروں نے پیر کی صبح عراقی سرحد پر دیر الزور کے مشرق میں واقع البوکمال دیہی علاقوں میں الھری نامی گاؤں میں ریفریجریشن ٹرکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ حملے میں متعدد ٹرک تباہ ہوئے ہیں اور ان میں سوار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
شام کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’سیرین آبزرویٹرفار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے۔
آبزرویٹری نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ القائم کے قریب ایرانی ملیشیا کے قافلے پر بمباری کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے ڈرون کے ذریعے نئے فضائی حملوں کے نتیجے میں ایرانی ملیشیا کے ایک رہ نما اورغیر شامی قومیتوں کے اس کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کل رات البوکمال کے دیہی علاقوں میں واقع الھری قصبے کے الاسطورا اسکوائر میں نشانہ بنانے والے مقام کا معائنہ کر رہے تھے۔
اتوار کی رات سے شام میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران نوازجنگجوؤن کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ گولہ باری کے رکنے کے چند گھنٹے بعد سرحدی علاقے القائم کے قریب شامی البوکمال علاقے میں دوبارہ گولہ باری کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 6 ریفریجریشن ٹرک عراق کی سرحد سے شام میں داخل ہوئے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا۔اس دوران بین الاقوامی اتحاد کے ڈرون طیاروں نے پروازیں کیں اور واقعے کے بعدایمبولینسوں کو بھی جائے وقوعہ پر جاتے دیکھا گیا۔