Flag of China Russia and Ukraine. Diplomatic relations. stock photo

وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر شی اورزیلنسکی کے درمیان فون کال کاخیرمقدم 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس نے چین کے صدرشی جن پنگ اور یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی کےدرمیان ٹیلی فون پرہونے والی بات چیت کاخیرمقدم کیا ہے لیکن کہا ہے کہ یہ کہناقبل ازوقت ہوگا کہ آیااس سے روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ ہوسکے گا یانہیں۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اس فون کال کے بارے میں کہاکہ ’’یہ ایک اچھی بات ہے۔ اب،چاہےاس سے کسی طرح کی بامعنی امن تحریک، یا منصوبہ یا تجویزسامنے آئے،مجھے نہیں لگتاکہ ہم اس وقت یہ جانتے ہیں‘‘۔

گذشتہ سال یوکرین پرروس کے حملے کے بعد پہلی مرتبہ شی جن پنگ نے بدھ کے روز زیلنسکی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور یہ کیف کی جانب سے اس طرح کے مذاکرات کے لیے کئی ماہ کے دباؤ کے بعدسامنے آئی ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے زیلنسکی کوبتایاکہ چین یوکرین میں خصوصی نمائندہ بھیجے گااورامن کے خواہاں تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا:’’ہم طویل عرصے سے کَہ رہے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو۔اگرپوتین یوکرین سے واپس چلے جاتے ہیں تو یہ جنگ فوری طور پر ختم ہوسکتی ہے۔ایسا لگتا ہےکہ یہ آنے والانہیں ہے‘‘۔

کربی کاکہناتھاکہ’’اگربات چیت کے ذریعے امن قائم ہوناہے تویہ اس وقت ہوناچاہیے جب صدرزیلنسکی اس کےلیے تیارہوں۔جب تک یہ امن قائم ہوسکتا ہے، امریکامنصفانہ امن تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔پائیداراورقابل اعتماد ہوسکتا ہے‘‘۔

جان کربی نے کہاکہ’’امریکاکواس کال کے بارے میں پیشگی معلومات نہیں تھیں اورضروری نہیں کہ وہ اس کی توقع کرے۔یہ دوخودمختار رہ نما ہیں اور ہمیں یہ دیکھ کرخوشی ہے کہ انھوں نے بات چیت کی ہے‘‘۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں