ایک ایرانی ملازم جنوب میں واقع پارس گیس فیلڈ کے نزدیک سے گذررہا ہے۔فائل تصویر۔

ایران میں گیس کی اہم تنصیب پرمزدوروں کی ہڑتال پر آٹھ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے ملک کے جنوب میں گیس کے ایک اہم مقام پرمزدوروں کی ہڑتال کی قیادت کے الزام میں آٹھ افرادکوگرفتار کرلیا ہے۔

نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم نے مقامی نائب گورنراکبرپورَت کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی پارس منصوبے میں مزدوروں کی ہڑتال کے آٹھ اہم رہنماؤں کوانٹیلی جنس سروسزنے گرفتارکر لیا ہے۔

جنوبی پارس/ نارتھ ڈوم میگا فیلڈ میں قریباً 40 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔یہ دنیا میں گیس کا سب سے بڑا معلوم ذخیرہ ہے، جسے ایران قطرکے ساتھ شیئر کرتا ہے۔

پورَت نےمزید کہا:’’اس علاقے میں سرگرم آٹھ کمپنیوں اور ذیلی ٹھیکےداروں کوہڑتال پراکسانے کے الزام میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے‘‘۔مئی کے اوائل میں مقامی میڈیانے اسی علاقے میں ہڑتال کی کال کی حمایت میں ملوّث بیرونی ٹھیکےداروں کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی۔

حکام نےاپریل کے آخرمیں اعلان کیا تھا کہ انھوں نے 4000 مزدوروں کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ وہ بہتراُجرت اور کام کےحالات بہتر بنانے کے مطالب کے حق میں ہڑتال کر رہے تھے۔

تاہم مزدوروں کی حامی خبر رساں ایجنسی ایلنانے خبردی ہے کہ جنوبی پارس میں ہڑتال کرنے والوں نے یونین کے مطالبات پراصرار جاری رکھا ہوا ہے۔ان کے اہم مطالبات میں اجرتوں میں 79 فی صد اضافے کے علاوہ امتیازی سلوک کا خاتمہ اور انجمن سازی کی آزادی کی اجازت دینا شامل ہے۔

سنہ 2022 میں ایران میں اساتذہ اور سرکاری بس ڈرائیوروں نے متعدد مرتبہ ہڑتال کی تھی اور اپنی تن خواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کم تن خواہوں اورزندگی گزارنے کی زیادہ لاگت کی مذمت کی تھی۔

ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں مغرب کی مختلف پابندیوں کی زد میں ہے، حال ہی میں افراطِ زر کی بلند شرح اوراس کی قومی کرنسی کی قدرمیں ریکارڈ کمی کی وجہ سے شہریوں کے مالی حالات بری طرح متاثرہوئے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں