اٹلی بھر میں گرمی کی لہر کے دوران لوگ ٹریوی فاؤنٹین پر خود کو پانی سے ٹھنڈا کر رہے ہیں کیونکہ 20 جولائی 2023 کو روم، اٹلی میں درجہ حرارت ٹھنڈا ہونے کی توقع ہے۔ (رائٹرز)

امریکہ، یورپ میں گرمی کی لہر انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"شمالی امریکہ اور یورپ کے علاقوں کو جس شدید گرمی نے اس ماہ جھلسا کر رکھ دیا ہے، وہ انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر 'عملاً ناممکن' تھی۔"

اس امر کا اظہار محققین نے کیا ہے کیونکہ لاکھوں افراد کو متأثر کرنے والا شدید درجۂ حرارت، صحت کے مسائل اور جنگل میں ہلاکت خیز آگ لگنے کی وجہ بن سکتا ہے۔

ورلڈ ویدر اٹریبیوشن گروپ کے سائنس دانوں کے ایک تیزرفتار تجزیے سے پتا چلا کہ موسمیاتی تبدیلی نے چین میں گرمی کی شدت میں 50 گنا اضافہ کیا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے زمین کے تپش کو بڑھانے والی گیسوں کے اخراج پر قابو نہ پایا تو گرمی کی شدت مزید بڑھے گی۔

موسمیاتی سائنس دان، فریڈرک اوٹو نے کہا: "دنیا نے حیاتیاتی ایندھن کا استعمال بند نہیں کیا ہے، اس لیے موسم گرم، اور گرمی کی لہریں مزید شدید ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سادہ اور عام فہم بات ہے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں