24 جولائی 2023 کو الجزائر کی سرحد کے قریب شمال مغربی تیونس کے شہر میلولا کے قریب جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ (اے ایف پی)

الجزائر کی جنگلاتی آگ پر سعودی فرمانروا اور ولی عہد کا اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے جنگل میں لگی خوفناک آگ سے ہونے والی ہلاکتوں پر الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شاہ سلمان نے صدر تبون کے نام ایک برقی پیغام میں کہا کہ "ہماری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے اور آپ کو اور تمام الجزائری بھائیوں کو ہر طرح کی تکلیف اور صدمے سے اپنی امان میں رکھے۔"

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی ایک برقی پیغام میں الجزائر کے صدر سے حالیہ واقعات پر اظہار افسوس کیا۔

انہوں نے اپنے ٹیلی گرام میں کہا کہ"مجھے کئی الجیری ریاستوں میں آگ لگنے اور لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی خبر ملی اور میں قابلِ احترام صدر اور مہلوکین کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔ میری اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ بیشک وہ سمیع و بصیر ہے۔"

جنوبی افریقہ اور یورپ میں اس وقت شدید گرمی کی لہر جاری ہے اور خطے کے کئی شہروں میں تقریباً 49 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گرمیوں میں لگنے والی جنگل کی آگ نے بحیرۂ روم کے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس سے الجزائر میں کم از کم 34 اور جنوبی اٹلی میں 2 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یونان کو بھی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی ایک نئی لہر کا مقابلہ درپیش ہے کیونکہ دو مشہور سیاحتی جزائر میں جنگل کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں