Your browser doesn’t support HTML5 video

گیبون سے حیران کن مناظر، نوٹوں سے بھرے تھیلے برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک گیبون میں فوج نے متنازعہ انتخابات میں اپنی جیت کا اعلان کرنے والے صدر علی بونگو اونڈیمبا کو فوری طور پر معزول کر دیا۔ علی بونگو نے اپنے والد عمر کے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک صدارت سنبھالنے کے بعد 14 سال تک ملک پر حکومت کی تھی۔

پیر کے روز اولیگی نگوما کو آئینی عدالت کے سامنے عبوری صدر کے طور تعینات کردیا گیا۔ ان کی مدت کی تعیین نہیں کی گئی۔ اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیو کلپس پھیل گئے جن میں سرکاری اہلکاروں کے گھروں سے بھاری رقوم سے بھرے تھیلوں کے برآمد ہونے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

ٹی وی سٹیشن "گیبون 24" کی جانب سے شائع ایک اس ویڈیو میں علی بونگو اونڈیمبا کے بیٹے اور سابق کابینہ ڈائریکٹر ایان گھسلین نگولو کے بیگز کی ضبطی اور ان کی گرفتاری کو دکھایا گیا۔ صدر کے خلاف ہوجانے والی فوج نے ان کی حکومت کے ارکان کے خلاف مہم شروع کردی ہے تاکہ حکومت کے ارکان کو بدعنوانی، منشیات سمگلنگ اور غبن کے الزام میں مجرم بنایا جا سکے۔ دوسری طرف صدر کے بیٹے اور سابق کابینہ ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ رقم انتخابی مہم سے متعلق تھی۔

واضح رہے بغاوت کا اعلان نیشنل الیکشنز اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا۔ علی بونگو نے ہفتے کے روز ہونے والے انتخابات میں 64.27 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ نئے رہنماؤں نے خود کو ’’اداروں کی بحالی کے عبوری مراحل کی کمیٹی‘‘ قرار دیا اور الیکشن کے نتائج کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔

نئے رہنماؤں نے کہا کہ انتخابات شفاف، قابل بھروسہ اور جامع ووٹ کے لیے ان شرائط پر پورا نہیں اترے جن کی گیبون کے عوام کو امید تھی۔

واضح رہے 5 دیگر افریقی ملکوں مالی، گنی، سوڈان، برکینا فاسو اور نیجر نے گزشتہ تین سالوں میں فوجی بغاوتیں دیکھی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں