26 ستمبر 2022 کو کیئف سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عمان قصبے میں روسی حملے کے باوجود حاسدی یہودی زائرین ربی ناچمن کے مقبرے پر یہودی نوروز روش ہشناہ کی سالانہ زیارت کے دوران عبادت کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
کیئف کی وارننگ مسترد، 20 ہزار سے زائد یہودی سالانہ زیارت کے لیے یوکرین آ دھمکے
حکام نے بتایا کہ روسی حملے کی وجہ سے کیئف کی جانب سے مذہبی تعطیل کے لیے سفر نہ کرنے کی وارننگ کے باوجود 20,000 سے زیادہ یہودی زائرین روش هاشاناه [یہودی سال کے آغاز] سے پہلے یوکرین کے شہر عمان پہنچ گئے ہیں۔
ہزاروں آرتھوڈوکس یہودی ہر سال اسرائیل اور دنیا کے دیگر حصوں سے عمان آتے ہیں تاکہ وسطی یوکرینی شہر میں چھٹی منائیں جو الحسيدية تحریک کی جائے پیدائش میں سے ایک ہے۔
جنگ کی وجہ سے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جشن منایا جانا تھا۔
تشيركاسی خطے کے سربراہ ايجور تابوريتس نے کہا کہ "14 ستمبر کی صبح تک تقریباً 22,000 حاسدی حجاج عمان پہنچ چکے ہیں جن میں زیادہ تر اسرائیل، امریکہ اور کئی یورپی ممالک سے آئے ہیں۔"
انہوں نے کہا: "تقریباً 1,000 قانون نافذ کرنے والے افسران تقریبات کے دوران سیکورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ ہم نے اضافی 24 پناہ گاہیں تیار کیں۔ خاص طور پر (ہم نے) کنکریٹ کے موبائل شیلٹر نصب کیے ہیں۔‘‘
گذشتہ سال یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے کائیو نے زائرین پر زور دیا ہے کہ وہ عمان کا سفر نہ کریں جسے مہلک فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اپریل میں شہر میں ایک اپارٹمنٹ بلاک پر روسی میزائل حملے میں 20 سے زیادہ شہری مارے گئے تھے۔
عمان تقریباً 200 سال سے زیارت گاہ رہا ہے۔
یہ بریسلوف کے ربی ناچمن کی جائے پیدائش ہے جو یہودی الحسيدية تحریک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔
تابوريتس نے کہا، "فی الحال عمان میں صورتحال مستحکم اور قابو میں ہے۔ ہماری سیکورٹی اور دفاعی فورسز بہتر انداز میں کام کر رہی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے قانون نافذ کرنے والے افسران کے علاوہ اسرائیلی پولیس اہلکار زائرین کے قریبی علاقے میں گشت کر رہے تھے۔