مالٹا کے محکمہ شہری تحفظ کے اہلکار ملک کی مسلح افواج (اے ایف ایم) کے ساتھ مل کر 15 ستمبر، 2023 کو لیبیا کے شہر درنہ میں طاقتور طوفان اور شدید بارش کے بعد لاشوں کی تلاش کی کارروائی میں شریک ہیں۔ 

مالٹا کی امدادی ٹیم نے لیبیا کے شہر درنہ کے ساحل سے 'سیکڑوں' لاشیں برآمد کرلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالٹا کے محکمہ شہری تحفظ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ان کی ایک امدادی ٹیم نے جمعہ کے روز لیبیا کے سیلاب زدہ شہر درنہ کے ساحل سے سیکڑوں لاشیں برآمد کی ہیں۔

مالٹا کی امدادی ٹیم کے سربراہ نتالینا بیزینا نے اخبار ٹائمز آف مالٹا کو بتایا کہ ساحل پر ’’ممکنہ طور پر قریباً 400 لاشیں موجود تھیں لیکن (حتمی تعداد کے بارے میں) کچھ کہنا مشکل ہے‘‘۔

مالٹا نے بدھ کے روز فوج اور محکمہ شہری تحفظ ( سی پی ڈی) کے 72 امدادی کارکنوں پر مشتمل ایک ٹیم ساحلی علاقے میں امدادی سرگرمیوں کے لیے بھیجی تھی۔

ان ہی میں سے چار افراد پر مشتمل ایک ٹیم نے لیبی باشندوں کی یہ لاشیں دریافت کی ہیں۔اس کو سب سے پہلے سمندر کے کنارے ایک غار کے اندر تین بچّوں سمیت سات لاشیں ملی تھیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ طوفان دانیال کے ساتھ آنے والی بارشوں کے نتیجے میں دو ڈیم منہدم ہو گئے تھے جس سے ساحلی شہر درنہ کا ایک چوتھائی حصہ بہ گیا تھا۔

بیزینا نے مالٹا کے میڈیا کو بتایا کہ سی پی ڈی کی ایک چھوٹی سی ٹیم اس غار کے پار پہنچی جو آدھا ڈوبا ہوا تھا اور اس کو اس کے اندر سے لاشیں ملی تھیں۔

جب انھوں نے تلاش جاری رکھی تو ان کے ساتھ لیبیا کے امدادی کارکنان بھی شامل ہو گئے جو ہلاک شدگان اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے تھے۔ پھر انھیں ملبے سے بھری ایک چھوٹی سی خلیج نظر آئی جس میں سے سیکڑوں لاشیں ملی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں