فلسطینی صدر محمود عباس (دائیں جانب) امریکی صدر جوبائیڈن (بائیں جانب)
حماس فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا دفاع نہیں کررہی: امریکی صدر
امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے "فلسطینیوں کے وقار اور خود ارادیت کے حق" کی حمایت کرتے ہوئے حماس کی اسرائیل کے خلاف عسکری کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
حماس فلسطینیوں کا دفاع نہیں کرتی
دونوں رہ نماؤں کے درمیان بات چیت کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق بائیڈن نے محمود عباس سے فلسطینی اتھارٹی کو "مکمل حمایت" فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطینی عوام کے وقار اور خود ارادیت کے حق کا دفاع نہیں کرتی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
غزہ میں جبری نقل مکانی کی مخالفت
دوسری جانب فلسطینی صدر نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر محمود عباس نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں فوری انسانی راہداری کھولنے، بنیادی سامان اور طبی سامان کی فراہمی اور وہاں کے شہریوں کو پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی ضروری ہے۔
انہوں نے نے مغربی کنارے کے فلسطینی شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں انتہا پسندوں کی دراندازی فوری طور پر روکی جائے کیونکہ مسجد اقصیٰ پر دھاوے کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں"۔
"تصادم کا دائرہ وسیع کرنے سے بچنے کی کوششیں"
انہوں نے فلسطین کی جانب سے خطے میں جلد از جلد منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے آمادگی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ "سلامتی اور امن فلسطینی عوام کو ان کے مکمل، جائز حقوق دینے سے حاصل ہی ممکن ہے‘‘۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
جب کہ امریکی صدر نے اپنے فلسطینی ہم منصب کو تصادم کے دائرہ کار میں توسیع سے بچنے پر زور دیا۔ دونوں صدور نے غرب اردن میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ہفتے کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصب یو آو گیلنٹ کے ساتھ جنگی قوانین کی پابندی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ آسٹن نے گیلنٹ کو مطلع کیا کہ "امریکا خطے میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ خطے میں کسی ملک کے اسرائیل کے خلاف حرکت میں آنے کے خطرے کو روکا جا سکے۔