16 مئی 2021 کو قبرص کے نکوسیا میں اسرائیلی-فلسطینی تشدد کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسرائیلی سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے دوران فلسطین کے ایک حامی نے انسدادِ فسادات پولیس کے سامنے فلسطینی پرچم تھام رکھا ہے۔ (رائٹرز)
قبرص میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر رات گئے معمولی دھماکہ؛ کوئی نقصان نہیں ہوا
پولیس نے بتایا کہ قبرص کے دارالحکومت نکوسیا میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر رات گئے ایک معمولی سا دھماکہ ہوا۔ تاہم کسی نقصان یا زخمی کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس نے کہا کہ ایک دھاتی چیز جس میں "تھوڑی مقدار میں پائروٹیکنک مواد" موجود تھا، سفارت خانے کے احاطے سے 30 میٹر کے فاصلے پر پھٹی جو نکوسیا کے ایک بہت زیادہ آبادی والے علاقے میں واقع ہے۔
ایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ اس علاقے میں موجود 17 اور 21 سال کی عمر کے چار نوجوانوں سے پولیس تفتیش کر رہی تھی۔ زیرِ حراست افراد میں سے ایک کی گاڑی سے پولیس کو 2 چاقو اور ایک ہتھوڑا ملا۔
قبرص کے سرکاری ریڈیو نے بتایا کہ گرفتار شدگان شامی تھے۔
غیر مستحکم شرقِ اوسط کے کنارے پر واقع قبرص نے جزیرے کے مختلف مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ تشدد کے تازہ واقعات کے پیشِ نظر حکام نے سفارت خانے کے گرد حفاظتی دائرہ بڑھا دیا اور شہریوں کی سڑکیں بند کر دیں۔
سفارت خانہ 1988 میں بم دھماکے کی ناکام کوشش کا نشانہ بنا تھا جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار قریبی پل پر پھٹ گئی جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔