من غزة (فرانس برس)
اسرائیلی فوج کی جانب سے پہلے مرحلے میں اپنے زمینی حملے کو شمالی غزہ کی پٹی پر مرکوز کرنے کے بعد رواں ہفتے اس نے اپنی کارروائیوں کو جنوب تک پھیلا دیا جہاں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی جمع ہیں۔ وہ اب ایک ایسے علاقے میں محصور ہیں جس کا علاقہ بتدریج تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
اگرچہ جنوب میں فوجی کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ اسرائیلی فوج اس وقت خان یونس میں فلسطینی مزاحمت کاروں سے لڑ رہی ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ خان یونس میں اس کی کارروائی فیصلہ کن اور شدید ترین ہوسکتی ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
فیصلہ کن مرحلہ
برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پردے کے پیچھے خفیہ طور پر کہا ہےکہ خان یونس شہر پر حملہ زمینی حملے کے آخری مرحلے میں سب سے بڑا اور شدید ترین ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ان اشاروں کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل پھر جنگ بندی پر رضامند ہو جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی افواج بعد میں اپنی کارروائیاں کم کر سکتی ہیں۔
خان یونس پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہونے والی بچی۔
اس کے بعد اسرائیلی فوج موبائل فورسز کا استعمال کرتے ہوئے حماس کے مضبوط ٹھکانوں پر چھوٹے حملے شروع کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔ تب وہ پوری بکتر بند ڈویژنوں کو تعینات کرنے سے گریز کرسکتی ہے۔
ایک سینیر اسرائیلی فوجی اہلکار نے توقع ظاہر کی کہ حماس کے گڑھ سمجھے جانے والے خان یونس میں فوجی آپریشن تین سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ پر شمال اور جنوب سے پرتشدد بمباری جاری ہے۔ غزہ سٹی، خان یونس، دیر البلح اور نصیرات میں جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کے ساتھ فضائی اور سمندری بمباری شامل ہے۔
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 17,490 ہوچکی ہے جن میں 7,870 بچے اور 6,121 خواتین شامل ہیں۔