ملی، زیلنسکی اور ایک بہت ہی خاص تحفہ - ٹویٹر
ارجنٹائنی صدرنے زیلنسکی کو یہودیوں کی مذہبی علامت تحفےمیں کیوں پیش کی؟
اتوار کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ارجنٹائن کے صدر جیویر ملی کی تقریب حلف برداری کئی دوسرے عالمی رہ نماؤں کی موجودگی میں شرکت کی۔ اس موقعے پر ارجنٹائن کے نو منتخب صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب کا پُرتپاک اور مختلف انداز میں استقبال کیا۔ ارجنٹائن کے صدر نے انہیں ’ہنوکا شمعدان‘ کا تحفہ پیش کیا جو یہودیوں کے مذہبی تہواروں کی ایک خاص علامت سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ارجنٹائن کے نئے صدر یہودی نہیں ہیں لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہودیوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے تورات اور دیگر یہودی مقدس کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ وہ یہودی مذہب قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
جیویر ملی نے اتوار کو ارجنٹائن کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ وسائل کی کمی کے تناظر میں اخراجات کو کم کرنے اور مہنگائی کو روکنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کریں گے۔
ارجنٹائن کے نئے صدر نے زیلنسکی کا خیرمقدم کیا - رائٹرز
نئے صدر نے پیدل اور پھر ایک کھلی گاڑی میں کانگریس کی عمارت سے صدارتی محل کاسا روزاڈا تک سفر کیا۔ اس موقعے پران کی ہمشیرہ کرینہ بھی ان کے ہمراہ تھیں جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
ملی نے صدر زیلنسکی کے ساتھ کانگریس کے اقدامات پر مختصر بات کی۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے ایکواڈور، پیراگوئے اور یوراگوئے کے رہ نماؤں سے بھی بات چیت کی ہے کیونکہ وہ جنگ زدہ یوکرین کی حمایت میں حمایت اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ملی بعد میں نو وزراء پر مشتمل حکومت کے ارکان کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اقدامات کا پہلا سیٹ دنوں میں کانگریس کو پیش کیا جائے گا۔