Chess pieces are seen in front of displayed Russia and Ukraine flags in this illustration taken January 25, 2022. (Reuters)

روس اور یوکرین

روس کے بغیر یوکرین پر کوئی بھی امن سربراہ اجلاس "بے کار" کوشش ہوگی: کریملن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یوکرین پر کوئی بھی عالمی امن سربراہی اجلاس جس میں روس کو شامل نہ کیا جائے وہ محض "بے کار" ہوگا اور ناکام ہو جائے گا۔

پیسکوف نے اخبار "آرگومینتی ای فاکیتی" میں شائع انٹرویو میں مزید کہا کہ روس اپنے آپ کو مغرب سے بچانے کے لیے یوکرین کے خلاف دو سالہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں اندھا دھند فائرنگ سے ایک دن پہلے گذشتہ جمعرات کو کیے گئے انٹرویو میں پیسکوف نے کہا کہ "کیا یوکرین کا مسئلہ روس کی شرکت کے بغیر حل ہو سکتا ہے؟ جواب واضح ہے، یہ ممکن نہیں ہے"۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف۔ رائیٹرز

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بین الاقوامی امن سربراہی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ یوکرین ۔ روس تنازع پرعالمی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے پہلے ہی یوکرین کے امن منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیا ہے جس میں روسی افواج کے انخلاء اور یوکرین کی 1991ء کی سرحدوں کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

پیسکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ منصوبہ ناقابل تصور تھا اور یورپی یونین اور دیگر ممالک کی طرف سے روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کنٹرول کرنے اور انہیں یوکرین کے حوالے کرنے کے منصوبوں کی بھی مذمت کی۔

ادھر کیئف میں حکام نے پیر کو کہا کہ روس کے دو بیلسٹک میزائلوں کے شیل لگنے سے دس افراد زخمی ہوئے جنہیں یوکرین کے فضائی دفاع نے دارالحکومت پر مار گرایا۔

’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے امدادی کارکنوں کو پانچ دنوں کے اندر دارالحکومت میں تیسرے فضائی حملے میں تباہ ہونے والی دو عمارتوں میں سے ایک کا ملبہ ہٹاتے دیکھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں