ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں 26 جنوری 2024 کو جب بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے ججز جنوبی افریقہ کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو ریاست کی زیرِ قیادت نسل کشی قرار دینے کے بعد اسرائیل کے خلاف ہنگامی اقدامات پر فیصلہ دے رہے ہیں تو عدالت کے باہر جمع شدہ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق کولمبیا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے جنوبی افریقہ کے اس مقدمے میں فریق بننے کرنے کی اجازت دی جائے جس میں اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔
اپنی درخواست میں کولمبیا نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ "فلسطینی عوام کے تحفظ اور وجود" کو یقینی بنائے۔
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت آئی سی جے ریاستوں کو مداخلت کرنے اور اپنے خیالات دینے کی اجازت دے سکتی ہے۔ کئی ریاستوں نے کہا ہے کہ وہ بھی اس معاملے میں مداخلت کرنے کی کوشش کریں گی لیکن تاحال صرف کولمبیا اور نکاراگوا نے عوامی درخواست دائر کی ہے۔
گذشتہ ہفتے آئی سی جے کے ججز نے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں تک بلا تاخیر بنیادی خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اور مؤثر کارروائی کرے۔
جنوری میں آئی سی جے جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے باز رہے جو نسل کشی کنونشن کے تحت آ سکتی ہے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی فوج غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کوئی کارروائی نہ کرے۔
اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا واحد مفاد حماس کو ختم کرنا ہے۔ اسرائیل کے وکلاء نے جنوبی افریقہ کے مقدمے کو نسل کشی کنونشن کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔