فرانسیسی وزیر خارجہ اسٹیفن سیگورنی
غزہ میں جنگ بندی مذاکرات، فرانسیسی وزیر خارجہ کا اچانک مصر کا دورہ
مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران ایک غیر طے شدہ اسٹاپ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے جلو میں فرانسیسی وزیر خارجہ اسٹیفن سیگورنی آج بدھ کو قاہرہ جائیں گے۔
غیراعلانیہ دورہ
ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے نے رائیٹرز کو بتایا کہ کہا "وزیر خارجہ کا اچانک دورہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مصری کوششوں کے فریم ورک کا حصہ ہے"۔
سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے تین فرانسیسی شہری اب بھی حماس کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
معاہدے تک پہنچنے کی رفتار
سیگورنی جنہوں نے یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی منگل کے روز رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ معاہدے تک پہنچنے کی طرف رفتار تیز ہوئی ہے لیکن یہ معاہدہ طویل مدتی جنگ بندی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح پر حملہ اسرائیل کو حماس کے خلاف جنگ میں مدد نہیں دے گا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ مصر کے دورے سے قبل لبنان، سعودی عرب اور اسرائیل کے دورے پرآئے۔
وہ ممکنہ طور پر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ آیا تینوں یرغمالیوں کو رہا کیا جا سکتا ہےیا نہیں اور معاہدہ حقیقت میں کتنا قریب ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مصر کی تجویز میں کہا گیا تھا کہ حماس غزہ میں یرغمال بنائے گئے چالیس افراد کو رہا کرے جس کے بدلے میں غزہ میں چھ ہفتے کی جنگ بندی عمل میں لائی جائے۔اس کے بعد جنگ بندی کی توسیع کے لیے ہر قیدی کے بدلے ایک نئے دن کی جنگ بندی کی تجویز شامل ہے۔
تاہم اگرحماس 20 سے زیادہ اسرائیلی زیر حراست افراد کو رہا نہیں کرتی ہے تو اس مدت کو مختصر کیا جا سکتا ہے۔