وسطی غزہ سے (آرکائیوز - رائٹرز)

امریکہ کا اتحادیوں سے حماس پر دباؤ ڈالنے پر زور

واشنگٹن کی اتحادیوں کوحماس کو بے دخل کرنے اور اس کے ارکان کی نقل وحرکت محدود کرنے کی دھمکی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ نےحماس اور اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے تک پہچنے کے لیے مزید دباؤ ڈلنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مشرق وسطیٰ کے آٹھویں دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔

باخبر امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے خطے میں اپنے کچھ اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ گذشتہ جمعے کو امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجاویز کو قبول کرے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بائیڈن انتظامیہ نے قطر، مصر اور ترکیہ پر زور دیا کہ وہ حماس پرمتعدد طریقوں سے دباؤ بڑھائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ حماس کے عہدیداروں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے سے لے کر انہیں بے دخل کرنے کی دھمکی پر دباؤ ڈالیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے ان ممالک سے حماس کے اراکین کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے اور خطے میں آزادانہ طور پر سفر کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کی دھمکی دینے کو کہا ہے۔

دوحہ سے بے دخلی

واشنگٹن نے قطرسے بھی حماس پر دباؤ ڈالنے کو کہا ہے کیونکہ حماس قطر کے دارالحکومت میں اپنا سیاسی دفتر چلا رہی ہے۔ واشنگٹن نے دوحہ سے کہا ہے کہ اگر حماس معاہدے کو قبول نہیں کرتی تو وہ قطر اسے ملک سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دے۔

انہوں نے کہا کہ حماس کو کئی مہینوں تک اسرائیل کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے سے انکار کے خطرات اور اس کے عہدیداروں کو نکالے جانے کے امکان سے خبردار کرنے کے بعد قطر نےپہلے ہی اسے بے دخلی کی دھمکی دی تھی۔

مصر سے دباؤ

ایک اور ذریعے نےکہا کہ مصر کو حماس کی طرف سے تازہ ترین تجویز کے حوالے سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، حالانکہ اس نے ان اشارے کے بارے میں قطعی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ قاہرہ تحریک پر بہت دباؤ ڈال رہا ہے

Your browser doesn’t support HTML5 video

قابل ذکر ہے کہ حماس کی طرف سے آنے والے دنوں میں بائیڈن کی طرف سے گذشتہ ہفتے پیش کی گئی اسرائیلی تجویز کا جواب متوقع ہے

اگرچہ حماس نے کل ایک بار پھر کسی بھی معاہدے کی منظوری کو جنگ کے مستقل خاتمے اور پوری غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلاء سے مشروط کیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں