جرمنی: عدالت نے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روکنے کی درخواست مسترد کر دی
جرمنی کی ایک مقامی عدالت نے منگل کے روز فوری سماعت کے لیے دی گئی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں استدعا کی گئی تھی اسرائیل کو سلحہ کی فراہمی روکنے کا حکومت کو حکم دیا جائے۔ کیونکہ اسرائیل یہ اسلحہ بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اس درخواست کے حوالے سے فلسطینیوں کی مختلف تنظیموں کی طرف سے حمایت کی گئی تھی۔ ان تنظیموں میں یورپین لیگل سپورٹ سنٹر، لاء فار فلسطین اور فلسطین انسٹیٹیوٹ فار پبلک ڈپلومیسی شامل تھے۔
ان تنظیموں کا موقف تھا کہ یہ یقین کرنے کے لیے بہت سی وجوہات موجود ہیں کہ اسرائیل غزہ کی حکمرانی کرنے والے گروپ حماس کے خلاف جنگ میں ایسا بہت کچھ کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر مبنی ہے۔
لیکن برلن کی انتظامی عدالت نے کہا مدعی نے وہ وجوہات پیش نہیں کی ہیں جن کی بنیاد پر اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی ملتوی کرنے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے نوٹ کیا ہے کہ جرمنی کی حکومت کو اسلحہ پرمٹ جاری کرنے سے انکار کرنے یا پرمٹ کے لیے مزید شرائط عائد کرنے کا حق ہے۔ تاکہ اسلحہ وصول کرنے والے سے یہ یقینی بنا سکے کہ وہ اسلحہ کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔
وکلاء گروپ کا کہنا ہے کہ یہ ناقابل فہم فیصلہ ہے۔ کیونکہ جرمنی حکومت نے اسلحہ کی برآمد سے متعلق درخواستوں کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں پہلے سے جاننا ممکن نہیں۔
جرمنی کے ایک معروف وکیل احمد عابد نے اس بارے میں کہا 'جرمن حکومت کا اسلحہ کی ترسیل اور جنگی جرائم کے بارے میں معلومات کو چھپانا ہمارے مؤکلوں کی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے۔'
یاد رہے پچھلے سال جرمنی نے اسرائیل کو 326 ملین یورو بمطابق 354 ملین ڈالر مالیت کے اسلحہ فراہمی کی منظوری دی ہے۔ جو 2022 کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تھا۔
تاہم جرمن وزات اقتصادی امور کا کہنا ہے 'اس سال کی پلی سہ ماہی میں اسلحہ کی اسرائیل کے لیے منظوری کا حکم صرف 10 ملین یورو تک رہ گیا ہے۔ '